"ان کا جسم طویل عرصے تک تکلیف جھیلتا رہا" میراڈونا کے معالجین کے خلاف مقدمہ میں لرزہ خیز
ارجنٹائن کے لیجنڈ فٹ بالر ڈیاگو ارمینڈو میراڈونا کے آخری ہفتوں میں ان کی دیکھ بھال پر مامور طبی عملے کے خلاف جاری مقدمہ میں عدالت نے ایک فارنزک ڈاکٹر کی شہادت قلمبند کی ہے۔ ڈاکٹر نے میراڈونا کے دل پر ایسے نشانات کا ذکر کیا ہے جو "طویل جدوجہد" اور ایک طویل عرصے تک رہنے والی سوزش (انفیکشن ) کی نشاندہی کرتے ہیں۔
تشریح کے ماہرین میں سے ایک ڈاکٹر فیڈریکو کوراسانیٹی نے ویڈیو لنک کے ذریعے شہادت دیتے ہوئے واضح کیا کہ دل کے تجزیے کے دوران "مجھے دل کے خانوں کے درمیان خون کے لوتھڑے ملے اور یہ لوتھڑے طویل عرصے تک جاری رہنے والی تکلیف کے دوران ہی بنتے ہیں"۔
میراڈونا کی ممکنہ تکلیف جو کہ استغاثہ کے مطابق ماہرین کی شہادت کی روشنی میں کئی گھنٹوں پر محیط تھی اور جس کی بعض ملزمان کے وکلاء صفائی تردید کرتے ہیں، اس مقدمے کا ایک بنیادی عنصر ہے۔ یہ صورتحال سنہ 1986ء کے ورلڈ کپ ہیرو کی گھر پر منتقلی کے دوران ان کی دیکھ بھال یا نگرانی میں سنگین کوتاہی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
اس کے باوجود ڈاکٹر کوراسانیٹی نے منگل کے روز ارجنٹائنی لیجنڈ کی ممکنہ تکلیف کے دورانیے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
"یہ سب اچانک نہیں ہو سکتا تھا"
دوسری جانب جب میراڈونا کی لاش ملی تو ان کا پیٹ غیر معمولی طور پر پھولا ہوا تھا، اس حوالے سے ڈاکٹر کوراسانیٹی نے ان کی حالت کو پیٹ کے حصے میں رطوبت کا جمع ہو جانے کی وجہ قرار دیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "یہ سب اچانک نہیں ہو سکتا۔ یہ تقریباً ناممکن ہے. یہ حالت ایک طویل عرصے کے دوران پیدا ہوئی تھی"۔ ان کا اشارہ بہ ظاہر اس جانب تھا کہ یہ ایک ایسی علامت تھی جسے بہ ظاہر دیکھ کر بھانپا جا سکتا تھا۔
میراڈونا 25 نومبر سنہ 2020ء کو 60 برس کی عمر میں دل اور سانس بند ہونے کے باعث وفات پا گئے تھے جس کے ساتھ پھیپھڑوں کی سوزش بھی شامل تھی۔ وہ بیونس آئرس کے شمال میں واقع ٹگری کے علاقے میں علاج کے لیے کرائے پر لیے گئے ایک گھر میں اپنے بستر پر تنہا تھے جہاں وہ سر کے زخم کے آپریشن کے بعد صحت یاب ہو رہے تھے۔
سان ائسیدرو میں گذشتہ تین ہفتوں سے صحت عامہ کے شعبے سے وابستہ سات افراد جن میں ڈاکٹر، ماہر نفسیات اور نرسیں شامل ہیں، کے خلاف اس ممکنہ غفلت کا مقدمہ چل رہا ہے جو نیپولی کلب کے اسٹار کی موت کا سبب بنی۔
دوران سماعت ان کی دیکھ بھال کے معیار اور صحت یابی کے لیے کرائے پر لیے گئے گھر میں طبی آلات کی کمی کا مسئلہ بار بار اٹھایا گیا، جیسا کہ سنہ 2025ء کے گزشتہ ٹرائل میں بھی ہوا تھا جو ایک جج کے دستبردار ہونے کے باعث ختم ہو گیا تھا۔
منگل کے روز عدالت نے ایک ماہر امراض سلیوینا ڈی پیرو کی شہادت بھی سنی جس کے مطابق مارادونا جو دیگر چیزوں کے علاوہ الکحل اور کوکین کی لت کا شکار رہے تھے، جگر کے ایک ایسے عارضے میں مبتلا تھے جو "جگر کے سکڑنے"سے مطابقت رکھتا تھا۔
تاہم زہریلے مواد کا تجزیہ کرنے والے بائیو کیمسٹ نے تصدیق کی کہ موت کے وقت ان کے جسم میں الکحل یا منشیات کے کوئی اثرات موجود نہیں تھے۔ اس شہادت نے ایک ملزم ماہر نفسیات کارلوس ڈیاز کے اس بیان کی تصدیق کی جو انہوں نے گذشتہ جمعرات کو دیا تھا کہ انہوں نے آخری مہینے میں میراڈونا کو 23 دنوں تک الکحل سے مکمل پرہیز کروانے میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔
-
جلد کی دائمی تازگی کا نسخہ اوردیرپا چمک کا راز
جلدی تحقیق کے مطابق چہرے کی چمک ایک مکمل اور مربوط نظامِ نگہداشت کے ذریعے حاصل ...
ایڈیٹر کی پسند -
گہری نیند کے لیے سائنسدانوں کا مشورہ، پاؤں لحاف باہر رکھیں
نئی سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جسم کے کسی چھوٹے حصے کو ٹھنڈی ہوا کے سامنے ...
ایڈیٹر کی پسند -
جاسوس کے راز فاش کرنے پر برطانیہ میں قتل کی بڑی سازش بے نقاب
برطانوی عدالت نے پانچ ملزمان کو پھانسی دے کر ان کے سر قلم کرنے اور باقی کو ...
ایڈیٹر کی پسند