امریکی صدر کے مشیر برائے عرب و افریقی امور مسعد بولس نے باور کرایا ہے کہ "سوڈان کے بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے"۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ میدانی منظر نامے کی پیچیدگیوں اور سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جاری لڑائی کے باوجود جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی راستے پر واپسی ضروری ہے۔
مسعد بولس نے منگل کے روز"العربیہ" کو دیے گئے خصوصی بیان میں کہا کہ برلن کا حالیہ اعلامیہ سوڈان میں حل کے لیے ایک "اہم روڈ میپ" ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ اعلامیہ ایک ایسی بنیاد فراہم کرتا ہے جس پر سیاسی تصفیے کی کوششوں کو بحال کرنے اور بڑھتے ہوئے انسانی المیے کو روکنے کے لیے کام کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت بنیادی مسئلہ "تنازع کے دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے ارادے کا فقدان" ہے، جو بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے باوجود سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان برقرار دوری کی طرف اشارہ ہے۔
امریکی عہدے دار نے واضح کیا کہ کسی حل تک پہنچنے کے لیے "مزید وقت درکار ہے"، لیکن انہوں نے اس کے مقابل اس بات کی بھی تاکید کی کہ امریکہ اپنے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر فریقین کو ایک پائے دار سیاسی تصفیے کی طرف دھکیلنے کے لیے اب بھی کام کر رہا ہے۔
مسعد بولس نے زور دے کر کہا کہ امریکہ "سوڈان میں کسی بھی متوازی حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا"۔ یہ موقف واشنگٹن کی جانب سے ان تمام اقدامات کی مخالفت کی عکاسی کرتا ہے جو اقتدار کی تقسیم یا ملک کے اندر سیاسی و جغرافیائی تقسیم کو ہوا دینے کا سبب بن سکتے ہیں۔
یہ بیان حالیہ مہینوں کے دوران تنازع کے فریقین کے زیرِ کنٹرول بعض علاقوں میں الگ سیاسی اور انتظامی اقدامات کے بارے میں بڑھتی ہوئی گفتگو کے درمیان سامنے آیا ہے، جس نے سوڈانی ریاست کے بکھرنے کے منظر نامے کے حوالے سے بین الاقوامی خدشات کو جنم دیا ہے۔
مسعد بولس نے اس بات کی تصدیق کی کہ واشنگٹن اس وقت سوڈان کی وحدت کو برقرار رکھنے اور ہر اس راستے کی حمایت کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جو جنگ بندی اور سیاسی عمل کی واپسی کا باعث بنے۔
عرب اور افریقی امور کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ امریکہ کے پاس "کئی ایسے آپشنز ہیں جنہیں سوڈان کے بحران کے حل کے لیے دباؤ ڈالنے کی خاطر فعال کیا جا سکتا ہے"۔ تاہم انہوں نے ان آپشنز کی نوعیت یا ان کے استعمال کے وقت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
اسی دوران انہوں نے عام شہریوں تک انسانی امداد کی رسائی کو آسان بنانے کی اپیل کی اور اس بات پر زور دیا کہ جنگ کے تسلسل اور متعدد علاقوں میں نقل مکانی اور فاقہ کشی کے پھیلاؤ کے ساتھ سوڈان میں انسانی صورتحال بدتر ہوتی جا رہی ہے۔
سوڈان کو دنیا کے بد ترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا ہے، کیونکہ اپریل 2023 سے جاری جنگ نے ہزاروں افراد کی جان لی ہے اور لاکھوں شہریوں کو بے گھر کر دیا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ بنیادی خدمات کی مکمل تباہی اور قحط کے بڑھتے ہوئے خطرے سے خبردار کر رہی ہے۔
متعدد علاقائی اور بین الاقوامی اقدامات کے باوجود، فوجی کارروائیوں کے تسلسل اور تنازع کے دونوں فریقوں کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات کے باعث جنگ بندی کی کوششوں کو اب بھی بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔