جنوبی لبنان میں جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ اس دوران ایک اسرائیلی سکیورٹی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ حزب اللہ نے منگل کے روز دو مارچ سے جاری کشیدگی کے بعد اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ کیا۔
اسرائیلی ذریعے نے بدھ کو بتایا کہ حزب اللہ نے گزشتہ روز شمالی اسرائیل پر مربوط انداز میں ڈرون حملہ کیا، جو نوعیت اور شدت کے اعتبار سے اپنی مثال آپ تھا۔ یہ بات اسرائیلی اخبار ''یروشلم پوسٹ'' نے نقل کی۔
ذرائع کے مطابق ڈرون حملوں میں دو اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے، جبکہ ایک اور حملے کے نتیجے میں ایک فوجی مقام پر آگ بھڑک اٹھی۔
گھومتی خاردار تاریں
دوسری جانب اسرائیلی ذرائع نے بتایا ہے کہ فوج نے حزب اللہ کے ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے روس۔یوکرین جنگ سے متاثر جدید دفاعی نظام متعارف کرانا شروع کر دیے ہیں۔
اسرائیلی فوجی ریڈیو کے مطابق جنوبی لبنان میں تعینات اسرائیلی افواج کو تقسیم کرنے کے لیے ہزاروں ٹکڑوں میں پھٹنے والی گولیاں بھی پہنچا دی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حزب اللہ کے ڈرونز سے نمٹنے کے لیے ریڈار، دفاعی نیٹ ورکس اور انٹرسیپٹر ڈرونز کو یکجا کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ انکشاف کیا گیا کہ نئی دفاعی حکمت عملی میں گھومتی خاردار تاروں کا استعمال بھی شامل ہوگا، جن کا مقصد حزب اللہ کے ڈرونز سے منسلک فائبر آپٹک کیبلز کو کاٹنا ہے۔
ایک اسرائیلی دفاعی عہدیدار نے بتایا کہ جہاں جدید ٹیکنالوجی پر مبنی حل تیار کیے جا رہے ہیں، وہیں کم لاگت والے طریقے جیسے جال بھی استعمال کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ فوجیوں کی بندوقوں میں کی گئی بہتری بھی ڈرونز کو گرانے میں مدد دے گی۔اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق فوج راکٹ حملوں کو روکنے کے لیے آئرن ڈوم نظام بھی استعمال کر رہی ہے اور ریڈار کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔
عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیلی فضائیہ نے اپریل میں ڈرونز کو روکنے کے لیے ایک نئے نظام کا تجربہ کیا تھا، تاہم وہ ناکام رہا۔ دونوں عہدیداروں کے مطابق سب سے مؤثر دفاع یہ ہے کہ حزب اللہ کے ان عملوں کو نشانہ بنایا جائے جو ڈرونز چلاتے ہیں۔
ڈرون جنگ میں نیا موڑ
حزب اللہ نے حالیہ ہفتوں میں بارودی مواد سے لیس، کم قیمت اور آسانی سے تیار ہونے والے ایف پی وی (FPV) ڈرونز استعمال کیے ہیں، جنہیں براہِ راست ویڈیو کنٹرول کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے کنٹرول کیے جانے والے یہ ڈرونز اسرائیل کی جدید جامنگ ٹیکنالوجی کو چکمہ دے کر جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس قسم کے ڈرونز کا وسیع استعمال کئی سال پہلے یوکرین جنگ میں شروع ہوا تھا، جہاں روسی ڈرون حملوں سے بچاؤ کے لیے محاذی علاقوں پر حفاظتی جال بچھائے گئے تھے۔
یوکرین کے ڈرون وارفیئر ماہر دیمترو بوٹیاتا، جو یوکرینی غیر انسانی نظام بریگیڈ سے وابستہ ہیں، نے کہا کہ حزب اللہ کے عناصر ابھی ان ڈرونز کے استعمال میں ماہر نہیں، مگر وہ تیزی سے سیکھ رہے ہیں۔
دوسری جانب حزب اللہ کے ایک کمانڈر نے انکشاف کیا کہ تنظیم کی ایک خصوصی ڈرون یونٹ، خریداری ٹیم کے ساتھ مل کر مختلف مارکیٹوں سے اسپیئر پارٹس حاصل کر رہی ہے۔
ایک لبنانی فوجی ذریعے نے جو حزب اللہ کے ڈرون پروگرام سے آگاہ ہے، بتایا کہ ڈرونز کو استعمال سے پہلے مکمل طور پر چیک کیا جاتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان میں اسرائیلی مداخلت یا ہیکنگ موجود نہ ہو۔
چین، روس اور حزب اللہ کے ڈرونز
اسپین میں مقیم ڈرون ماہر کونراڈ ایٹوربی جو تجارتی کواڈ کاپٹر ڈرونز کی تیاری اور تبدیلی کا تجربہ رکھتے ہیں، کہا کہ حزب اللہ کی ویڈیوز میں نظر آنے والے تمام ڈرونز ایسے نظام دکھاتے ہیں جو عموماً چینی کمپنیوں کے تیار کردہ پرزوں سے جوڑے گئے ہیں، یہ پرزے انٹرنیٹ پر آزادانہ فروخت ہوتے ہیں۔
دوسری جانب یوکرین میں ڈرون آپریشنز سے وابستہ ایک ذریعے، جس نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر نام ظاہر نہیں کیا، ایک غیر ملکی سکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ 11 اپریل کی فوٹیج میں ایک ڈرون پر روسی ساختہ اینٹی ٹینک وارہیڈ پی جی-7 ایل نصب دکھائی دیا۔
ادھر حزب اللہ کے ایک کمانڈر اور اسرائیلی ڈرون ماہر کے مطابق ایک عام ڈرون کی قیمت 400 ڈالر سے بھی کم ہوتی ہے۔چند ہفتے قبل اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی اعتراف کیا تھا کہ ڈرونز اسرائیل کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔
انہوں نے 3 مئی کو کہا تھا:چند ہفتے پہلے میں نے ڈرون خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی منصوبہ شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس میں وقت لگے گا، لیکن ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔
-
مشرقی لبنان کے قصبے سحمر کے مکینوں کو علاقہ خالی کرنے کااسرائیلی حکم
اسرائیلی فوج نے مشرقی لبنان کے علاقے البقاع میں واقع قصبے سحمر کے مکینوں کو ایک ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی فوج کی جنوبی لبنان کے دریائے لیطانی کے ساتھ چھاپہ مار کارروائیاں
اسرائیلی فوج نے منگل کو کہا ہے کہ اس کے فوجیوں نے جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی کے ...
مشرق وسطی -
اسرائیل نے بیروت کے جنوب میں ہائی وے پر گاڑیوں کو نشانہ بنایا: سرکاری میڈیا لبنان
سرکاری میڈیا نے بتایا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے باوجود بیروت ...
مشرق وسطی