محمود عباس کا فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات جاری رکھنے اور انتخابات کرانے کا عہد

فلسطینی صدر نے "ایک نظام، ایک قانون اور ایک ہی قانونی اسلحہ کے اصول" پر زور دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

فلسطینی صدر محمود عباس نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے اندر ان اصلاحات پر کام جاری رکھیں گے جن کا مطالبہ عالمی برادری اور عرب لیگ کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے قانون ساز اسمبلی اور صدارتی انتخابات کے انعقاد کا بھی عہد کیا تاہم ان کی کوئی تاریخ طے نہیں کی۔

رام اللہ میں آج جمعرات کے روز فتح تحریک کی آٹھویں کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر ایک طویل خطاب کرتے ہوئے محمود عباس نے کہا "ہم ان تمام اصلاحاتی نکات پر کام جاری رکھنے کے اپنے مکمل عزم کی تجدید کرتے ہیں جن کا عہد ہم نے بین الاقوامی امن کانفرنس کی صدارت اور ان ممالک سے کیا تھا جنہوں نے ریاستِ فلسطین کو تسلیم کیا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا "ہم یورپی یونین اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر حکومتی انتظام کار کو بہتر بنانے، ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے اور سکیورٹی و انصاف کے شعبوں کو ترقی دینے پر کام کر رہے ہیں"۔

عباس نے دستور اور سیاسی جماعتوں و انتخابات کے قوانین کی تکمیل کے بعد صدارتی اور قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کرانے کے لیے فلسطینی اتھارٹی کی آمادگی ظاہر کی، البتہ اس کے لیے کسی وقت کا تعین نہیں کیا۔ فلسطینی علاقوں میں گذشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے انتخابات نہیں ہوئے ہیں، جبکہ انتخابات کا انعقاد ان اصلاحات کا حصہ ہے جن کا عالمی برادری مطالبہ کرتی رہی ہے۔

سخت سکیورٹی انتظامات کے سائے میں کانفرنس کے شرکاء صبح سویرے سے ہی مغربی کنارے کے وسط میں واقع رام اللہ میں صدارتی ہیڈ کوارٹر پہنچنا شروع ہو گئے۔ فلسطینی صدارتی گارڈز کے نشانہ بازوں نے قریبی عمارتوں کی چھتوں پر پوزیشنیں سنبھال رکھی تھیں۔

ڈائس کے پیچھے ایک بینر لگایا گیا تھا جس پر کانفرنس کا عنوان "صبر اور ثابت قدمی" درج تھا اور مسجدِ اقصی اور کلیسائے قیامت کی تصاویر موجود تھیں۔ وہاں تحریک کی مرکزی کمیٹی کے مرحوم اراکین کی تصاویر والا بینر بھی آویزاں تھا، جبکہ الیکٹرونک اسکرینوں کے ذریعے غزہ کی پٹی، قاہرہ اور بیروت سے کانفرنس کی براہِ راست کارروائی دکھائی جا رہی تھی جہاں تحریک سے وابستہ شرکاء جمع تھے۔

اسکرینوں پر دکھائے گئے اعداد و شمار کے مطابق مدعو کیے گئے 2594 اراکین میں سے 2182 نے شرکت کی۔

حماس تنظیم کے ساتھ مفاہمت کے حوالے سے محمود عباس نے کہا کہ "ہماری قومی وحدت چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور تقسیم ختم کرنے کے لیے ایک ٹھوس بنیاد ہے اور یہ ان اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے جن پر ہم سب نے اتفاق کیا ہے ... یعنی تنظیمِ آزادیِ فلسطین (پی ایل او) کو واحد اور قانونی نمائندہ تسلیم کرنا، اس کے سیاسی پروگرام اور بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کرنا، ایک نظام، ایک قانون اور ایک ہی قانونی اسلحہ کے اصول پر عمل کرنا اور پُر امن عوامی مزاحمت پر کاربند رہنا"۔

اسرائیلی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے محمود عباس نے کہا کہ "مزید آباد کاری، انتہا پسندی، قبضے کو طول دینا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا انکار امن و سکیورٹی نہیں لائے گا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نے آپ کے ساتھ ایسے معاہدے کیے جو ہمارے اور آپ کے لیے حقیقی امن کی بنیاد بنتے ہیں، ایسا امن جس میں ہم جنگوں، جارحیت اور دہشت گردی سے دور رہ کر سکیورٹی، استحکام اور حسنِ جوار کے ساتھ مل کر رہ سکیں اور ہماری قوم کے ہاتھ اب بھی امن کی سرزمین پر مطلوبہ امن کے حصول کے لیے پھیلے ہوئے ہیں"۔

افتتاحی سیشن میں نشر کیے گئے ایک ریکارڈڈ پیغام میں ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے "سوشلسٹ انٹرنیشنل" کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک فتح کی یہ کانفرنس ان انتہائی مشکل حالات میں منعقد ہو رہی ہے جن کا فلسطینی عوام اور خطہ سامنا کر رہے ہیں، جس کے لیے ذمہ داری، اتحاد اور سیاسی قیادت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ایک ایسے افق کی تلاش میں بین الاقوامی مذاکرات اور تعاون کو گہرا کرنے کے لیے کام جاری رکھیں گے جو فلسطینی عوام کے لیے امن، انصاف اور وقار کی ضمانت دے۔ سانچیز کے خطاب کا ہال میں موجود شرکاء نے تالیوں کی گونج میں استقبال کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں