کالز اور ریکارڈنگز نے پھنسا دیا... السعدی کے خلاف مقدمے کی سماعت میں نئی تفصیلات کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ترکیہ میں حراست میں لیے جانے کے بعد امریکہ منتقل کیے جانے والے عراقی حزب اللہ بریگیڈز کے رہنما محمد باقر سعد داود السعدی کو مینہٹن میں ایک امریکی وفاقی عدالت کے سامنے پیش کر دیا گیا۔

امریکی اخبار "نیویورک ٹائمز" کی جانب سے آج اتوار کے روز شائع کی جانے والی رپورٹ کے مطابق، دو روز قبل (جمعہ کو) ہونے والی سماعت کی دستاویزات اور کارروائی سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 32 سالہ شخص فروری کے اواخر میں ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکی اسرائیلی مہم کے بعد سے یورپ اور کینیڈا میں کم از کم 20 حملوں کی منصوبہ بندی میں شریک رہا ہے۔

سماعت کے دوران امریکی تفتیش کاروں نے فون کالز کی ریکارڈنگز پیش کیں جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان میں السعدی نے حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کی کوشش کی۔ اس میں ایک "یہودی عبادت گاہ" کو نشانہ بنانا اور ان کارروائیوں کو انجام دینے کے لیے افراد کو بھرتی کرنا شامل تھا۔ انہوں نے کچھ تصاویر بھی منسلک کیں جن کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وہ السعدی کو اعلیٰ ایرانی حکام کے ساتھ دکھاتی ہیں۔ ان میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی بھی شامل ہیں، جو جنوری 2020 میں ایک امریکی حملے میں مارا گیا تھا۔

اس کے علاوہ السعدی کی منصوبہ بندی میں بیلجیم میں ایک یہودی عبادت گاہ پر اور پیرس میں "بینک آف امریکہ" کی عمارت پر آتش گیر بم پھینکنا شامل تھا۔ ابتدا میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان میں سے کچھ حملے ایک ایسے گروہ نے کیے ہیں جو پہلے نا معلوم تھا، لیکن وفاقی تفتیش کاروں نے کہا کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ گروہ عراقی "حزب اللہ بریگیڈز" کا ہی ایک روپ تھا۔

محمد السعدی قاسم سلیمانی کے ساتھ
محمد السعدی قاسم سلیمانی کے ساتھ

السعدی کے خلاف دائر کردہ شکایت کی تفصیلات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ اس نے لوس اینجلس اور ایریزونا میں "امریکیوں اور یہودیوں" کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ اس نے نیویارک شہر میں ایک یہودی عبادت گاہ پر حملے کی منصوبہ بندی شروع کر دی تھی۔

ملزم پر یہ الزام ہے کہ اس نے ایک خفیہ ایجنٹ کو تصاویر اور نقشے فراہم کیے جن میں نیویارک میں ایک بڑی یہودی عبادت گاہ کے مقام کے ساتھ ساتھ لوس اینجلس اور اسکوٹس ڈیل (ایریزونا) میں دو دیگر یہودی اداروں کی نشان دہی کی گئی تھی اور اسے ان مقامات کے خلاف حملے کرنے کا حکم دیا تھا۔

اسی طرح السعدی نے فون پر خفیہ ایجنٹ کے ساتھ اس طریقے پر بحث کی جس سے نیویارک کی یہودی عبادت گاہ پر حملہ کیا جائے گا، جس میں مقامی طور پر تیار کردہ دھماکہ خیز مواد کے استعمال کا ذکر کیا گیا۔ تاہم کوئی حملہ نہیں ہوا۔

السعدی کو جاننے والے 3 عراقی افراد نے جن میں ایک اعلیٰ عہدے دار بھی شامل ہے، وضاحت کی کہ وہ عراقی ملیشیاؤں اور ایرانی حکام کے ساتھ اس کے تعلقات سے واقف تھے، لیکن وہ "نیویارک ٹائمز" کے مطابق "کتائب حزب اللہ" سے اس کی وابستگی کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔

امریکی محکمہ انصاف نے پہلے ذکر کیا تھا کہ السعدی نے ماضی میں قاسم سلیمانی کے ساتھ "قریب سے" کام کیا تھا۔

اس نے بارہا اور عوامی طور پر امریکیوں کے خلاف حملے کرنے کی وکالت بھی کی تھی۔

یاد رہے کہ امریکی حکام نے گذشتہ جمعے کو حزب اللہ بریگیڈز کے اس رہنما کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا، جس پر امریکہ، کینیڈا اور یورپ میں حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ہے۔ ان میں یہودی مقامات پر دہشت گردانہ حملے بھی شامل ہیں۔ فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے کہا کہ السعدی "ایک انتہائی اہم ہدف ہے جو عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ کارروائیوں کا ذمے دار ہے"۔

امریکی محکمہ انصاف نے یہ بھی اشارہ کیا کہ السعدی کو امریکہ منتقل کیا گیا ہے، تاہم اس کی گرفتاری کے وقت اور جگہ کی وضاحت نہیں کی گئی۔ وہ نیویارک میں ایک وفاقی جج کے سامنے پیش ہوا۔ جج نے اس پر با ضابطہ طور پر دہشت گردانہ سرگرمیوں سے متعلق چھ الزامات عائد کیے اور اسے احتیاطی حراست میں بھیج دیا گیا۔

واشنگٹن عراقی حزب اللہ بریگیڈز کو ایک "دہشت گرد گروہ" قرار دیتا ہے۔، خاص طور پر اس کے بعد جب اس نے ماضی میں عراق اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی میزبانی کرنے والے اڈوں پر ڈرون اور راکٹ حملوں کی بارہا ذمہ داری قبول کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں