اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے لیے لبنان 4 مطالبات پر قائم ... وہ کیا ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کے چوتھے دور کے انعقاد کی توقعات کے بیچ، لبنانی صدر جوزف عون نے تصدیق کی ہے کہ لبنانی فریق نے ان مذاکرات کے لیے ایک مخصوص دائرہ کار طے کر لیا ہے۔

عون نے آج پیر کے روز بعبدا محل سے جاری بیان میں مذاکرات کے دوران 4 مطالبات کا تعین کیا۔ انہوں نے کہا کہ "لبنان نے مذاکرات کے لیے جو دائرہ کار طے کیا ہے، وہ اسرائیلی انخلا، جنگ بندی، سرحدوں پر لبنانی فوج کی تعیناتی اور اس کے ساتھ ساتھ پناہ گزینوں کی اپنے دیہات میں واپسی پر مشتمل ہے"۔
عون نے مذاکرات کے دائرہ کار کے اندر لبنان کے لیے اقتصادی یا مالی امداد کے بارے میں بھی بات کی اور اس بات پر زور دیا کہ اس کے علاوہ جو کچھ بھی کہا جا رہا ہے وہ درست نہیں ہے۔

لبنانی صدر نے تصدیق کی کہ وہ "جنگ کو روکنے کے لیے نا ممکن کو بھی ممکن بنائیں گے"۔ انہوں نے کہا "ہم نے جنگوں کا تجربہ کیا ہے، تو انہوں نے لبنان کو کہاں پہنچایا؟ کیا اب کوئی اس کی قیمت برداشت کرنے کی سکت رکھتا ہے؟"

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ بندی کی مدت میں توسیع کے نفاذ کے باوجود اسرائیل نے آج جنوبی لبنان پر اپنی بم باری جاری رکھی۔
واضح رہے کہ واشنگٹن نے جمعے کو جنگ بندی میں 45 دنوں کی توسیع کی تصدیق کی تھی، جو امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں جمعرات اور جمعے کو منعقد ہونے والے لبنانی-اسرائیلی مذاکرات کے تیسرے دور کے اختتام کے بعد کی گئی ہے۔

امریکہ نے رواں ماہ (مئی) کی 29 تاریخ کو امریکی وزارتِ دفاع (پینٹاگان) میں دونوں ممالک کے فوجی وفود کی شرکت کے ساتھ ایک سکیورٹی ٹریک کے آغاز کا بھی اعلان کیا ہے، جبکہ سیاسی ٹریک آئندہ دوسرے اور تیسرے جون کو دوبارہ شروع ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں