اسرائیلی روسی خاتون صحافی نے عراق میں اپنی قید کا راز اور "السعدی" کا معاملہ کھول دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

عراق میں گذشتہ دنوں رہا ہونے والی اسرائیلی روسی خاتون صحافی اور محقق الزبتھ تسورکوف نے اپنے اغوا کار گروہوں کے بارے میں نئی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں عراقی حزب اللہ بریگیڈز (تنظیم) کے گرفتار ہونے والے رہنما محمد باقر سعد داؤد السعدی پر عراق کے اندر اغوا اور قتل کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ السعدی ایران سے وابستہ سرگرمیوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی کوشش میں شریک تھا۔

تسورکوف نے "العربیہ" کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (FBI) کو اپنے اغوا کار گروہوں کے بارے میں معلومات فراہم کیں، جو امریکی تفتیش کاروں کے لیے مفید ثابت ہوئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ السعدی نے عراقی کارکنوں کو لا پتا اور قتل کرنے میں کردار ادا کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ حزب اللہ بریگیڈز کے اہم سکیورٹی عہدے دار "ابو علی العسکری" بھی انہیں قید میں رکھنے میں ملوث تھے۔

السعدی کون ہے؟

تسورکوف کا یہ بیان امریکہ میں السعدی پر چلنے والے مقدمے کی نئی تفصیلات کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق امریکی حکام نے خفیہ ریکارڈنگز اور کالز کی مدد سے اسے گرفتار کیا۔ طویل مانیٹرنگ اور تفتیش کے دوران ایف بی آئی کے ایک خفیہ ایجنٹ نے السعدی سے عراق کے اندر سکیورٹی سرگرمیوں اور قتل کی وارداتوں سے متعلق اعترافات اور معلومات حاصل کیں۔ تفتیش سے یہ بھی معلوم ہوا کہ السعدی ایران سے وابستہ مسلح نیٹ ورکس سے جڑا ہوا تھا۔ تسورکوف نے تصدیق کی کہ السعدی کو ترکیہ میں گرفتار کیا گیا تھا، جہاں سے اسے ایف بی آئی کے حوالے کیا گیا اور اس نے خفیہ ایجنٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا۔

الزبتھ تسورکوف عراق، شام اور مسلح گروہوں کے امور کی ماہر ہیں۔ وہ 2023 میں عراق سے لا پتا ہوئی تھیں، جس کے بعد اسرائیل نے عراقی حزب اللہ بریگیڈز پر ان کے اغوا کا الزام لگایا تھا۔ ان کی قید کا معاملہ ایک حساس سکیورٹی اور معاملہ فائل بن گیا تھا، جس پر امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے مسلسل دباؤ اور خفیہ انٹیلی جنس کوششیں جاری تھیں۔ تسورکوف نے بتایا کہ ان کے اغوا سے جڑے حزب اللہ بریگیڈز کے کئی رہنما جنگ کے دوران مارے جا چکے ہیں۔

تسورکوف کے بیان نے ایران سے وابستہ عراقی مسلح دھڑوں کے معاملے کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے، جن پر برسوں سے کارکنوں، صحافیوں اور سکیورٹی حکام کے اغوا اور قتل کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ گذشتہ برسوں میں عراق میں احتجاجی تحریک کے کارکنوں اور عام شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کے متعدد واقعات دیکھنے میں آئے ہیں، جن کا الزام مسلح دھڑوں پر لگایا جاتا ہے۔ تاہم یہ گروہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size