انسانی حقوق کے مقدمے میں ملوث ملزم کے خلاف سخت کارروائی
دوسری عالمی جنگ کے دوران رینہارڈ ہائڈریش ایڈولف ہٹلر اور ایس ایس کے سربراہ ہینرش ہملر دونوں کے انتہائی قریبی اور بااعتماد معاون کے طور پر کام کرتا تھا۔
وہ ایس ایس کے مختلف شعبوں کے ساتھ ساتھ گسٹاپو (Gestapo) جیسے خفیہ اداروں کا بھی اہم سربراہ تھا۔اپنے عہدوں کی بدولت ہائڈریش نے مقبوضہ علاقوں میں مخالفین کے خلاف کارروائیوں اور سکیورٹی آپریشنز کی قیادت کی۔
وہ یہودیوں کے خلاف ''حتمی حل'' کی تیاری میں بھی شامل رہا اور بوہیمیا و موراویا میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور سزاؤں کی نگرانی کرتا رہا۔
1942 میں ہائڈریش کے قتل نے نازی قیادت کو شدید جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس واقعے کے بعد نازی حکومت نے بوہیمیا اور موراویا میں سخت انتقامی کارروائیاں شروع کیں، جن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے۔
قتل اور انتقامی کارروائیاں
مئی 1942 کے دوران دو چیکوسلواکی مزاحمت کاروں نے، جنہیں برطانوی حمایت حاصل تھی، پراگ کے قریب رینہارڈ ہائڈریش کو قتل کرنے کی ایک کارروائی کی۔
27 مئی کو انہوں نے اپنے منصوبے پر عمل کرتے ہوئے ہائڈریش کی گاڑی کو راستے میں نشانہ بنایا اور اس پر بم پھینکا، جو گاڑی کے قریب پھٹ گیا۔ اس حملے کے نتیجے میں ہائڈریش شدید زخمی ہو گیا اور دھماکے کے ٹکڑوں سے اس کی حالت انتہائی خراب ہو گئی۔
ابتدائی طور پر نازی ایس ایس کے اہلکاروں نے سرجری کے بعد اس کی جان بچانے کی کوشش کی اور کچھ حد تک وہ بہتر بھی ہو گیا، لیکن بعد میں انفیکشن کی وجہ سے اس کی حالت تیزی سے بگڑ گئی اور بالآخر 4 جون 1942 کو اس کی موت واقع ہو گئی۔اس قتل نے نازی قیادت میں شدید غصہ پیدا کیا۔
ایڈولف ہٹلر اور ہینرش ہملر کے براہِ راست حکم پر ایس ایس فورسز نے مزاحمت کاروں کے مبینہ مددگاروں کے خلاف سخت انتقامی کارروائیاں شروع کیں۔
ان کارروائیوں میں سب سے پہلا نشانہ چیک گاؤں لیڈیتسے (Lidice) بنا، جہاں بڑے پیمانے پر تباہی اور جانی نقصان ہوا۔
لیڈیتسے کا قتل عام
10 جون 1942 کو لیڈیتسے میں جرمن افواج نے انتقامی کارروائیاں شروع کیں۔ انہوں نے 15 سال سے زائد عمر کے تمام مردوں کو جمع کیا اور تقریباً 173 افراد کو گولی مار کر قتل کر دیا۔
اسی دن مزید 9 مردوں کو بھی قتل کیا گیا ،جو واقعے کے وقت گاؤں میں موجود نہیں تھے۔ اس کے علاوہ کچھ خواتین اور دو بچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جن کی عمر 15 سال کے قریب بتائی گئی۔
اس کے بعد جرمن حکام نے 8 بچوں کو ''آریائی'' قرار دے کر جرمنی لے جا کر گود لینے کے لیے بھیج دیا، جبکہ باقی بچوں اور خواتین کو چیلمنو (Chełmno) کے موت کے کیمپ میں منتقل کیا گیا جہاں بعد میں انہیں گیس چیمبرز میں قتل کر دیا گیا۔
اس پورے آپریشن کی نگرانی ایس ایس افسر کارل ہرمان فرانک نے کی۔ بعد میں لیڈیتسے گاؤں کو مکمل طور پر جلا کر تباہ کر دیا گیا۔
لیڈیتسے میں ہونے والے اس قتل عام نے دنیا بھر میں شدید غم و غصہ پیدا کیا۔ مختلف ممالک نے اپنے شہروں میں لیڈیتسے کے نام پر یادگاریں اور علاقے منسوب کیے۔
برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے اس واقعے کے بدلے جرمنی کے شہروں پر بمباری کی بھی تجویز دی۔
نازی اہلکار کارل ہرمان فرانک کی سزائے موت کا نفاذ
دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد کارل ہرمان فرانک امریکی افواج کے ہاتھوں گرفتار ہوا، جسے بعد میں چیکوسلواکیہ کے حوالے کر دیا گیا۔
پراگ میں ''عوامی عدالت ''کے سامنے اس پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد کیے گئے اور اسے سزائے موت سنائی گئی۔
سزا کے نفاذ کے لیے پراگ کی پینکراز جیل کے باہر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے، جن میں تقریباً 5 ہزار افراد شامل تھے اور کچھ لوگ وہ بھی تھے، جن کے اہلِ خانہ ان مظالم کا شکار ہوئے تھے۔
22 مئی 1946 کو اس سزا پر عمل درآمد کیا گیا۔فرانک کو ایک پھانسی کے تختے سے باندھا گیا اور عوام کے سامنے لایا گیا، جہاں وہ زندہ حالت میں موجود تھا۔
بعد میں اس کے گلے میں پھندا ڈالا گیا اور اسے نیچے گرایا گیا، جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی۔ اس عمل کے دوران جلادوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ اس کی موت آہستہ اور تکلیف دہ انداز میں ہو۔