امریکی فوج نے تقریباً پونے تین ماہ بعد ایرانی بچیوں کے پرائمری سکول پر بمباری کی تحقیقات پیش کر دی ہیں۔ امریکی فوج کی اس بمباری کے نتیجے میں لگ بھگ 170 بچیاں سکول میں تعلیم کے دوران جاں بحق ہوگئی تھیں۔ ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملے کا یہ پہلا دن تھا۔
امریکی سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل براڈ کوپر نے کانگریس کے سامنے پیش کردہ اس تحقیقاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایرانی بچیوں کا یہ سکول ایران کے کروز میزائلوں کے ایک مرکز میں قائم کیا گیا تھا۔ اس واقعے پر دنیا بھر میں امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف مشترکہ جنگ کے پہلے ہی روز بچیوں کو اتنی بڑی تعداد میں قتل کرنے پر شدید مذمتی لہر ابھر کر سامنے آئی تھی۔
مغربی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' نے سب سے پہلے جو رپورٹ کیا تھا کہ امریکی فوج کی اندرونی تحقیقات میں ابتدائی طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ امریکی افواج میناب سکول میں بچیوں کی ہلاکت کی ذمہ دار ہے۔ اس کے بعد پینٹاگون نے اس واقعے کے بارے میں تحقیقات کرنے کا اعلان کیا۔ اب تقریبا پونے تین ماہ کے بعد اس تحقیقات کے نتائج کانگریس کے سامنے پیش کیے گئے ہیں۔