نیٹو میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کٹوتی دفاعی صلاحیتوں کو نقصان نہیں پہنچائے گی : روٹے

واشنگٹن نے ایران میں جنگ کے معاملے پر ٹرمپ اور میرٹز کے درمیان اختلاف کے بعد جرمنی سے 5000 فوجی واپس بلانے کا اعلان کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

شمالی اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کے سکریٹری جنرل مارک روٹے نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے یورپ سے 5000 فوجی واپس بلانے کا فیصلہ دفاعی صلاحیتوں کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ ان خیالات کا اظہار ان توقعات کے درمیان سامنے آیا ہے کہ واشنگٹن ان فوجیوں کی تعداد میں بھی کمی کرے گا جو وہ تنظیم کے تصرف میں دیتا ہے۔

روٹے نے آج بدھ کے روز صحافیوں کو بتایا "تقریباً 4,000 سے 5,000 اہل کاروں سے متعلق اس اعلان کا تعلق دراصل باری باری تعینات ہونے والی (روٹیشنل) افواج سے ہے، جو نیٹو کے دفاعی منصوبوں پر اثر انداز نہیں ہوتیں"۔

واشنگٹن نے رواں ماہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چانسلر فریڈرک میرٹز کے درمیان ایران میں جنگ کے معاملے پر پیدا ہونے والے اختلاف کے بعد جرمنی سے 5000 فوجی واپس بلانے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔

اس اچانک اقدام اور اس کے بعد پیدا ہونے والی اس الجھن نے کہ آیا فوجیوں کی کٹوتی جرمنی کو متاثر کرے گی یا پولینڈ کو، یورپ میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے یورپی ممالک کو پہلے ہی مطلع کر دیا تھا کہ امریکہ دنیا بھر میں دیگر خطرات پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کے لیے اپنی افواج کو واپس بلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

روٹے کے مطابق انہوں نے کہا "ہم جانتے ہیں کہ تبدیلیاں کی جائیں گی۔ مثال کے طور پر امریکہ کو ایشیا پر زیادہ توجہ مرکوز کرنی ہے.. اور یہ کام بتدریج اور منظم طریقے سے کیا جائے گا"۔

امریکی صدر نے ایران کے ساتھ اپنی جنگ پر یورپ کے رد عمل پر اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اور انہوں نے بارہا نیٹو سے الگ ہونے کی دھمکی دی ہے۔
پینٹاگان نے منگل کے روز یورپ میں تعینات امریکی افواج کے بریگیڈز کی تعداد چار سے کم کر کے تین کرنے کا اعلان کیا، تاکہ یہ تعیناتی 2021 کی سطح پر واپس آ جائے۔

اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعلان کیا تھا کہ پولینڈ میں 4000 فوجیوں کی تعیناتی کو مؤخر کیا گیا ہے، منسوخ نہیں۔
انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ یورپ کو اپنے طور پر خود انحصاری کرنی چاہیے۔

نیٹو کے یورپی ارکان رواں ہفتے سویڈن میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے وضاحتیں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
وہ جولائی میں ترکیہ میں نیٹو رہنماؤں کے سربراہی اجلاس سے قبل تناؤ کو کم کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔

اگرچہ اب تک تمام تر توجہ یورپ میں تعینات امریکی افواج پر مرکوز رہی ہے، لیکن یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ امریکہ یہ اعلان کرے گا کہ وہ کسی بحران کی صورت میں نیٹو کے تصرف میں دی جانے والی فوجیوں کی مجموعی تعداد کو کم کر دے گا۔

یورپی سفارت کاروں نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ امریکہ جمعہ کے روز برسلز میں اعلیٰ حکام کے ایک اجلاس کے دوران نیٹو کے فورس اسٹرکچر میں اپنے حصے کی کٹوتی کی توثیق کر دے گا۔

اس سے مراد فوج کا وہ حجم ہے جو تنظیم کے مختلف ممالک فراہم کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر 180 دن کے اندر اس کے فوجی کمانڈروں کو دستیاب ہوتا ہے۔

روٹے نے کہا "یہ ایک عام کارروائی ہے اور یہ متوقع تھی۔ میرے خیال میں یہ ہونا بالکل درست ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں