کینیڈا کا اسرائیلی سفیر طلب، بن گویر کے بیان پر شدید احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی وزارت کے حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ اوٹاوا میں تعینات اسرائیلی سفیر کو طلب کریں۔

یہ اقدام اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کرنے کے بعد اٹھایا گیا، جس میں غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے روانہ ہونے والے ''اسطولِ صمود'' کے زیرِ حراست کارکنوں کا مذاق اڑایا گیا تھا۔

دوسری جانب اٹلی نے بھی زیرِ حراست کارکنوں کے ساتھ برتاؤ کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی وقار کی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ بن گویر کی ویڈیوز کو ''ناقابلِ قبول'' کہا۔

اطالوی وزارت خارجہ نے بتایا کہ وہ بھی اسرائیلی سفیر کو طلب کرے گی تاکہ واقعے پر باضابطہ وضاحت طلب کی جا سکے۔ترکیہ اور یونان نے بھی اسرائیلی رویے کی شدید مذمت کی۔



ترک وزارت خارجہ کے مطابق یہ طرزِ عمل اسرائیلی حکومت کی ''پرتشدد اور وحشیانہ ذہنیت ''کو دنیا کے سامنے عیاں کرتا ہے۔

یونانی وزارت خارجہ نے بن گویر کے اقدامات کو ''ناقابلِ قبول اور مکمل طور پر مسترد شدہ '' قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے۔

ادھر فریڈم فلوٹیلا کی ترجمان رانیہ پیٹریس نے کہا کہ بن گویر ایسی ویڈیوز اس لیے جاری کرتا ہے کیونکہ دنیا نے اسرائیل کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا۔

انہوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے آن لائن گفتگو میں کہا:اگر وہ یورپی، امریکی، جنوبی افریقی اور دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ یہ سلوک کر سکتے ہیں، تو اندازہ کریں کہ فلسطینی عوام کے ساتھ کیا کرتے ہوں گے۔

 بن گویر
بن گویر



رانیہ پیٹریس نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ صرف مذمتی بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کریں۔ ان کا کہنا تھا:سخت الفاظ پر مشتمل مذمتی پیغامات اب کافی نہیں، ہمیں عملی کارروائی کی ضرورت ہے۔

اسرائیلی وزیر ایتامار بن گویر کو بدھ کے روز وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے سخت سرزنش کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ بیرونِ ملک بھی ان کے خلاف شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔

یہ ردِعمل اس وقت سامنے آیا جب بن گویر نے ایسی ویڈیوز نشر کیں، جن میں وہ غزہ پر اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کی کوشش کرنے والے ''اسطولِ صمود'' کے زیرِ حراست کارکنوں کا مذاق اڑا رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ انہیں بہت طویل عرصے تک جیل میں ڈال دینا چاہیے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اگرچہ اسرائیل کو حماس کے حامیوں کے اشتعال انگیز بحری قافلوں کو روکنے کا مکمل حق حاصل ہے، لیکن وزیر بن گویر کا طرزِ عمل اسرائیلی اقدار اور معیارات کے مطابق نہیں۔

ادھر ''اسطولِ صمود'' کے زیرِ حراست کارکن بدھ کے روز اسرائیلی بحریہ کے جہازوں کے ذریعے ساحلی شہر اشدود پہنچے، جبکہ بن گویر نے ایک بار پھر کہا کہ انہیں بہت لمبے عرصے تک قید میں رکھا جانا چاہیے۔

ایک ویڈیو میں ایتامار بن گویر کو تقریباً 430 زیرِ حراست کارکنوں کے درمیان چلتے ہوئے دیکھا گیا، جہاں پولیس اور فوجی اہلکار موجود تھے۔ اس دوران وہ ایک بڑا اسرائیلی پرچم لہرا رہے تھے اور کارکنوں سے کہہ رہے تھے: اسرائیل میں خوش آمدید، یہ زمین ہماری ہے۔

ویڈیو میں ایک ہتھکڑی لگے کارکن کو "فلسطین آزاد ہے کے نعرے لگاتے ہوئے بھی دیکھا گیا، جبکہ بن گویر اس کے قریب سے گزر رہے تھے۔

اسی دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے اس کارکن کو دھکا دے کر زمین پر گرا دیا۔ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا کہ کارکنوں کے ہاتھ پشت کے پیچھے بندھے ہوئے تھے اور وہ گھٹنوں کے بل جھکے، سر زمین پر رکھے ہوئے نظر آئے۔

یہ مناظر غالباً اشدود بندرگاہ میں قائم ایک عارضی حراستی مرکز اور ایک بحری جہاز کے ڈیک پر فلمائے گئے تھے۔

ایک دوسری ویڈیو میں بن گویر نے کہا: یہ لوگ یہاں بڑے فخر کے ساتھ عظیم ہیرو بن کر آئے تھے، اب انہیں دیکھو۔

انہوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے مطالبہ کیا کہ انہیں ان کارکنوں کو جیل میں ڈالنے کی اجازت دی جائے۔

اسرائیلی وزیرِ داخلی سلامتی نے کہا:میں وزیرِاعظم نیتن یاہو سے کہتا ہوں کہ انہیں بہت طویل عرصے کے لیے میرے حوالے کر دیں، انہیں ہمارے سپرد کریں تاکہ ہم انہیں دہشت گردی کے قیدیوں والی جیلوں میں ڈال سکیں، یہی ہونا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size