ایران اورامریکہ کےدرمیان ممکنہ ابتدائی معاہدہ "اعلان اسلام آباد" کے نام سے ہوگا:العربیہ

مفاہمت کی یادداشت کے بعد حتمی امور پر معاہدے کے لیے مذاکرات ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اعلیٰ ذرائع نے اتوار کے روز العربیہ اور الحدث کو بتایا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ ابتدائی معاہدہ "اعلان اسلام آباد" کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ پاکستان مذاکرات کار فریقین کی موجودگی کی ضرورت کے بغیر مفاہمت کی یادداشت کا اعلان کرے گا جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور 5 جون کو ہو سکتا ہے۔

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگاروں نے بتایا کہ واشنگٹن اور تہران حتمی معاہدے پر مذاکرات کے آغاز کے وقت اپنے وفود کے سربراہان کو بھیجیں گے۔

ذرائع نے کہا کہ یہ ابتدائی معاہدہ ایک مفاہمت کی یادداشت ہے جس کے بعد حتمی مسائل پر معاہدے کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے۔

پاکستانی قیادت کی سفارتی کوششیں

اس سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں "بڑی پیش رفت" ہوئی ہے جس سے ایک مثبت اور پائیدار نتیجے تک پہنچنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

اس کے ساتھ ہی پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے قیام کے لیے ان کی جنہیں انہوں نے "غیر معمولی کوششیں" قرار دیا پر مبارکباد پیش کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور جلد ہی اگلے دور کی میزبانی کی امید رکھتا ہے۔

آبنائےہرمز اور جنگ کا خاتمہ

امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے مذاکرات میں پیش رفت کے اعلان کے بعد ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ایک معاہدہ جس میں آبنائے ہرمز کو کھولنا بھی شامل ہے وہ "کافی حد تک آگے" بڑھ چکا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق یہ معاہدہ بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے گا جو عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس سے ایران پر عائد پابندیوں میں بھی نرمی آئے گی تاہم ایران کے جوہری پروگرام کا حساس معاملہ بعد کے مذاکرات تک مؤخر کر دیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں