موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کچھ پودے ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار

امریکی کیٹالینا آئرن ووڈ، نیلا سپائک ماس اور آسٹریلیا کے یوکلپٹس کی انواع بھی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ماہرین کا خیال ہے کہ کچھ پودے جو مانوس قدرتی مناظر کو منفرد انداز بخشتے ہیں صدی کے آخر تک غائب ہو سکتے ہیں کیونکہ موسمیاتی تبدیلی پودوں کی بقا کے لیے درکار مناسب مسکنوں کو تبدیل کر کے اور اکثر انہیں سکڑا کر انواع کے ناپید ہونے کے اثرات کو بڑھا رہی ہے۔

محققین نے مستقبل میں متعدد وعائی پودوں (vascular plants) کے پھیلاؤ کے علاقوں کے ماڈل تیار کیے ہیں جو دنیا کے تقریباً تمام پودوں کی نمائندگی کرنے والی ایک کلاس ہے۔ یہ وہ پودے ہیں جن میں پانی اور غذائی اجزاء کو منتقل کرنے والے ٹشوز ہوتے ہیں۔ انہوں نے 67 ہزار سے زائد انواع کا مطالعہ کیا جو دنیا کے معلوم وعائی پودوں کا تقریباً 18 فیصد ہیں۔

شدید ناپید ہونے کا خطرہ

رائٹرز کے مطابق محققین نے پایا ہے کہ ان میں سے 7 فیصد سے 16 فیصد کے درمیان پودے اپنے پھیلاؤ کے علاقے کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ کھو سکتے ہیں جس سے انہیں شدید ناپید ہونے کا خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

اس کی مثالوں میں کیٹالینا آئرن ووڈ یا آئی لینڈ آئرن ووڈ نامی درخت شامل ہے جو امریکی ریاست کیلیفورنیا کا ایک نایاب مقامی درخت ہے۔ نیلا سپائک ماس بھی شامل ہے جو پودوں کے ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتا ہے جس کی تاریخ 400 ملین سال سے زیادہ پرانی ہے۔ یوکلپٹس کی انواع کا تقریباً ایک تہائی حصہ بھی شامل ہے جو آسٹریلیا میں پودوں کے سب سے مشہور گروہوں میں سے ایک ہے۔

آسٹریلیا میں یوکلپٹس کا جنگل (ایسٹاک)
آسٹریلیا میں یوکلپٹس کا جنگل (ایسٹاک)

متحرک موسمیاتی غلاف

محققین ان اندازوں تک پودوں کے مقامات سے متعلق لاکھوں ریکارڈز کی جانچ پڑتال کے ساتھ ساتھ سال 2081 سے 2100 کے عرصے کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے منظر نامے کا مطالعہ کرنے کے بعد پہنچے۔ پودے کا مسکن صرف نقشے پر ایک جگہ نہیں ہے بلکہ ان تمام حالات کا مجموعہ ہے جن کی اسے ضرورت ہوتی ہے جیسے درجہ حرارت، بارش، مٹی، زمین کا استعمال اور سائے جیسے مناظر کی خصوصیات۔

ییل یونیورسٹی میں پوسٹ ڈاکٹوریٹ ریسرچ کرنے والی جونا وانگ اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، ڈیوس میں ماحولیاتی سائنس اور پالیسی کی پروفیسر شیاولی ڈونگ، جنہوں نے اس مطالعے کی قیادت میں مدد کی، نے رائٹرز کو مشترکہ تبصروں میں کہا کہ اس کا تصور کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ پودوں کو ایک متحرک موسمیاتی غلاف کی پیروی کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ بہت سی انواع شمال کی طرف یا اونچائی کی طرف منتقل ہو سکتی ہیں تاکہ وہ اتنی ٹھنڈی جگہ پر رہ سکیں جو ان کے لیے کافی ہو لیکن درجہ حرارت کہانی کا صرف ایک حصہ ہے۔

اکثر ماحولیاتی نظاموں کی بنیاد

سائنس جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی بہت سے علاقوں میں حالات کے اس مجموعے کو کم کر رہی ہے جس سے ایسے کم علاقے رہ جاتے ہیں جہاں وہ تمام حالات جو انواع کو اکٹھے درکار ہوتے ہیں اب بھی دستیاب ہوں۔ پودوں کے لیے منتقلی یا پھیلاؤ عام طور پر نسلوں کے دوران ہوتا ہے۔ یہ منتقلی ان بیجوں کے ذریعے جو ہوا، پانی، جانوروں یا کشش ثقل کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں کے ذ ریعے ہوتی ہے۔ اس کے باوجود جب محققین نے حقیقی منتقلی کا موازنہ ایک ایسے منظر نامے سے کیا جس میں پودے کسی بھی نئے مناسب مسکن تک پہنچ سکتے ہیں تو ناپید ہونے کی شرحیں بہت حد تک ملتی جلتی تھیں۔

پودے زمین پر زیادہ تر ماحولیاتی نظاموں کی بنیاد بناتے ہیں۔ وہ کاربن کو ذخیرہ کرتے ہیں، مٹی کو متوازن رکھتے ہیں، جنگلی حیات کی مدد کرتے ہیں اور خوراک، لکڑی، ادویات اور دیگر مواد فراہم کرتے ہیں۔ اس لیے پودوں کے تنوع میں تبدیلیاں فطرت اور انسانوں پر یکے بعد دیگرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

وانگ اور ڈونگ نے واضح کیا کہ اگر موسمیاتی تبدیلی نباتاتی غلاف کو کم کرتی ہے تو ماحولیاتی نظام ماحول سے کم کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر سکتے ہیں جس سے گلوبل وارمنگ کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا بدترین چکر پیدا کرتا ہے جس میں موسمیاتی تبدیلی پودوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور نباتاتی غلاف یا پیداواری صلاحیت میں کمی کے نتیجے میں موسمیاتی تبدیلی مزید سنگین ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بالآخر، پودوں کے تنوع کا تحفظ صرف فطرت کے ذاتی بقا کے تحفظ تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ان ماحولیاتی نظاموں کے تحفظ سے بھی ہے جو انسانی معاشروں کو سہارا دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں