سعودی عرب: ماہ اپریل میں آثار قدیمہ سے متعلق 26 خلاف ورزیاں ریکارڈ
بعض کا تعلق نوادرات اپنے پاس رکھنے اور انہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فروخت کے لیے پیش کرنے سے ہے
سعودی عرب میں سعودی ہیریٹیج اتھارٹی نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے گزشتہ اپریل کے مہینے کے دوران سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں آثار قدیمہ سے متعلق 26 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی ہیں کیونکہ ان خلاف ورزیوں میں تنوع پایا گیا۔ ان خلاف ورزیوں میں ملک کے علاقوں میں ہیریٹیج سائٹس پر تجاوزات اور باقاعدہ لائسنس حاصل کیے بغیر نوادرات اپنے پاس رکھنا یا انہیں فروخت کے لیے پیش کرنا شامل ہے۔
اس کے علاوہ غیر قانونی مقامات پر کھدائی کے کام بھی پکڑا گیا۔ اتھارٹی نے آثار قدیمہ کے مقامات اور ان کے ثقافتی اجزاء کے تحفظ، اور آثار قدیمہ اور شہری ورثے کے تحفظ سے متعلق ضوابط کی تعمیل کو بڑھانے اور قومی ورثے کو نقصان پہنچانے یا اس کے محتویات کے ساتھ چھیر چھاڑ کرنے والے کسی بھی عمل کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی مانیٹرنگ کی نگرانی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
12 تجاوزات
ہیریٹیج اتھارٹی نے وضاحت کی کہ ریکارڈ کی گئی خلاف ورزیوں میں متعدد علاقوں میں ثقافتی ورثے کے مقامات پر 12 تجاوزات شامل تھیں جنہیں فیلڈ مانیٹرنگ دوروں اور موصول ہونے والی رپورٹس کے ذریعے پکڑا گیا۔ یہ تجاوزات آثار قدیمہ کے مقامات کی باڑ پر تجاوز کرنے یا ان کے اجزاء کے ساتھ چھیر چھاڑ کرنے اور آثار قدیمہ کے مقامات کی حدود کے اندر غیر قانونی کھدائی کے کاموں پر مشتمل تھیں۔
اس کے علاوہ بعض مقامات کے تعارفی بورڈز اور تنظیمی ڈھانچے کو نقصان بھی پہنچایا گیا۔ ان معاملات سے منظور شدہ باقاعدہ طریقہ کار کے مطابق نمٹا گیا۔ اس طریقہ کار میں خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینا اور ان کے حوالے سے ضروری اقدامات مکمل کرنے کے لیے انہیں متعلقہ حکام کے پاس بھیجنا شامل ہے۔
سوشل میڈیا کے ذریعے 14 خلاف ورزیاں
ہیریٹیج اتھارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے نوادرات سے متعلق 14 خلاف ورزیاں ریکارڈ کیں۔ یہ خلاف ورزیاں باقاعدہ لائسنس حاصل کیے بغیر نوادرات اپنے پاس رکھنے یا انہیں فروخت کے لیے پیش کرنے یا غیر قانونی کھدائی جیسے خلاف ورزی پر مبنی کاموں کی تشہیر کرنے کی صورت میں سامنے آئیں۔ گمراہ کن مواد شائع کرنے کا بھی پتہ چلایا گیا۔ اس مواد میں بعض مقامات پر آثار قدیمہ یا خزانوں کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ان معاملات سے قوانین اور ضوابط کے مطابق نمٹا گیا اور ان کے حوالے سے ضروری اقدامات مکمل کرنے کے لیے انہیں متعلقہ حکام کے پاس بھیج دیا گیا۔
سعودی ہیریٹیج اتھارٹی نے کہا کہ آثار قدیمہ کی خلاف ورزیوں کی نگرانی سال بھر کے مانیٹرنگ ورک سسٹم کا ایک تسلسل ہے جو فیلڈ انسپکشن دوروں، ڈیجیٹل مواد کی نگرانی اور متعلقہ سکیورٹی اور مانیٹرنگ حکام کے ساتھ ہم آہنگی پر انحصار کرتا ہے۔ اس سے آثار قدیمہ کے مقامات کے تحفظ کی تاثیر میں اضافہ ہوتا ہے اور ان خلاف ورزیوں کو روکا جا سکتا ہے جو ان کے اجزاء کو نشانہ بناتی ہیں یا انہیں غیر قانونی طریقوں سے استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
سعودی ہیریٹیج اتھارٹی نے ہر ایک کو دعوت دی ہے کہ وہ ثقافتی ورثے کے مقامات یا اس کے اجزاء پر ہونے والی کسی بھی قسم کی تجاوزات کے بارے میں سوشل میڈیا پر اس کے آفیشل چینلز کے ذریعے یا مملکت کے مختلف علاقوں میں اس کی شاخوں اور دفاتر میں سے کسی ایک کا دورہ کر کے یا آثار قدیمہ رپورٹ سروس کا استعمال کرتے ہوئے تعاون کریں اور رپورٹ کریں۔ سکیورٹی آپریشنز سینٹر کے نمبر 911 پر کال کرکے بھی رپورٹ کی جاسکتی ہے۔
اسی تناظر میں "ہیریٹیج اتھارٹی" ثقافتی ورثے کے اجزاء کی تلاش، اس کے تحفظ، دیکھ بھال، اس کی تعریف کرنے اور مملکت کے ’’ ویژن 2030 ‘‘ سے نکلنے والی ثقافت کی قومی حکمت عملی کے اندر ایک اہم ثقافتی اور اقتصادی وسائل کے طور پر اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔