سعودی عرب کے اعلیٰ ذرائع نے 'العربیہ' کو پیر کے روز بتایا ہے کہ مملکت کا فلسطین کاز پر مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک ناقابل واپسی راستہ اختیار کرتے ہوئے فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے۔
سعودی ذرائع کی طرف سے یہ بات اس وقت سامنے آئی جب صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کی اقوام سے کہا انہیں امریکہ اور ایران کے متوقع معاہدے کے تناظر میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات نارمل کرنے چاہییں۔ جیسا کہ ابراہم معاہدے میں کہا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کی گئی اپنی طویل پوسٹ میں کہا ہے کہ انہوں نے ہفتہ کے روز مختلف ممالک کے سربراہوں سے بات کی جو ایران کے ساتھ جنگی خاتمے کی کوششوں کے حوالے سے تھی۔ ٹرمپ نے اپنی اس پوسٹ میں ان ملکوں کے نام بھی دیے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا بالآخر کام مکمل ہوا اور امریکہ نے کوشش کی کہ وہ اس پیچیدہ پزل سے اکٹھے باہر آ سکے ۔ اب یہ 'مینڈیٹڑی' ہے کہ تمام ممالک کم از کم ابراہم معاہدے پر اس کے ساتھ ہی ساتھ دستخط کریں۔
خیال رہے ابراہم معاہدہ ٹرمپ کے زیر قیادت 2020 میں سامنے لایا گیا تھا تاکہ مختلف ممالک کو اس کا حصہ بناتے ہوئے ان کے اسرائیل سے نارمل سفارتی تعلقات قائم کیے جا سکیں۔ تاہم سعودی عرب کا تازہ بیان کیا گیا مؤقف بھی یہی ہے کہ اس کی فلسطین کے بارے میں سوچ تبدیل نہیں ہوئی اور دو ریاستی حل کے بغیر اسرائیل سے نارمل تعلقات ممکن نہیں ہے۔
-
سعودی عرب کی اسرائیل میں امریکی سفیر کے اشتعال انگیز بیانات کی شدید مذمت
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہاکابی کے ان ...
مشرق وسطی -
اسرائیل کا مغربی کنارے میں زمین کی رجسٹریشن کا فیصلہ، سعودی عرب اور پاکستان کی مذمت
پاکستان اور سعودی عرب نے مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک بڑے حصے میں اسرائیل کی جانب سے ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی کنیسٹ سے مغربی کنارے پر خود مختاری مسلط کرنے کی توثیق قابل مذمت: سعودی عرب
سعودی وزارت خارجہ نے مغربی کنارے پر اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنے اور ایک غیر ...
بين الاقوامى