اسرائیلی حملے میں دو طلبہ کی موت کے بعد... لبنانی یونیورسٹی نے امتحانات ملتوی کر دیے

اسرائیلی جارحیت کے دوران یونیورسٹی اپنے طلباء، اساتذہ اور ملازمین کی ایک بڑی تعداد سے محروم ہو چکی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

لبنانی یونیورسٹی نے منگل کے روز صیدا اور بیروت کے جنوبی مضافات میں قائم اپنے کیمپسوں میں امتحانات ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ امتحانات دے کر جنوبی لبنان واپس جانے والے دو طالب علموں کے اپنے والد کے ہمراہ جاں بحق ہونے کے بعد کیا گیا ہے۔

نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق، القلیعہ گاؤں کے ڈینٹسٹ جیمس کرم "نبطیہ - الخردلی روڈ پر اپنی گاڑی کو دشمن کے ڈرون سے نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں اپنے بیٹے اور بیٹی سمیت" جاں بحق ہو گئے۔

اسرائیلی سرحد کے قریب واقع گاؤں کے پادری، انتونیوس فرح نے بتایا کہ مذکورہ شخص اپنے دونوں بچوں، جن کی عمریں بیس سال کے اوائل میں تھیں، کے ہمراہ یونیورسٹی میں امتحانات مکمل کرنے کے بعد گھر واپس جا رہا تھا۔ پادری نے وضاحت کی کہ "وہ صبح اپنے بچوں کو امتحانات کے لیے یونیورسٹی لے کر گئے تھے اور واپسی کے راستے پر ڈرون نے ان کی گاڑی پر میزائل داغا جس سے گاڑی جل گئی۔"

لبنانی یونیورسٹی نے "ایکس" پلیٹ فارم پر ان دو طالب علموں کے لیے سوگ کا اعلان کیا جو "خردلی روڈ پر شہریوں کو نشانہ بنانے والے ایک اسرائیلی حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے"۔ یونیورسٹی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ "یونیورسٹی سے وابستہ افراد کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے"۔ ساتھ نشان دہی کی گئی کہ "اسرائیلی جارحیت کے دوران ہم نے اپنے متعدد طلباء، اساتذہ اور ملازمین کو کھو دیا ہے۔"

یونیورسٹی نے تصدیق کی کہ "رفیق حریری یونیورسٹی سٹی (بیروت کے جنوبی مضافات) اور صیدا کے علاقے میں امتحانات کو اگلے ہفتے تک ملتوی کرنے کا فیصلہ اپنے طلباء، اساتذہ اور ملازمین کے حوالے سے ذمے داری کے احساس کے تحت کیا گیا ہے۔"

پادری نے کہا "ہمیں سمجھ نہیں آیا کہ ایسا کیوں ہوا"۔ انہوں نے نشان دہی کی کہ حملے کے بعد جلی ہوئی گاڑی سے انجیل اور دعائیہ کتاب ملی ہے۔ انہوں نے مزید کہا "ہم سب صدمے میں ہیں اور یہ نہیں سمجھ پا رہے کہ اس شخص کو اس کے بچوں سمیت کیوں نشانہ بنایا گیا، وہ ایک ڈاکٹر تھا اور اس کے بچے یونیورسٹی کے طالب علم تھے۔"

نیشنل نیوز ایجنسی نے پیر کے روز جنوبی لبنان کے درجنوں دیہات پر اسرائیلی حملوں کی اطلاع دی۔ حکام کے مطابق 2 مارچ کو جنگ کے آغاز سے اب تک لبنان میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 3433 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ دس لاکھ سے زائد افراد اپنے علاقوں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں