دو سالوں میں چین کو پاکستان کے چلغوزے کی برآمدات تقریباً دوگنا ہو گئیں

چین اب پاکستان کے چلغوزے کی 90 فیصد تک برآمدات خریدتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پاکستان کی چین کو چلغوزے کی برآمدات 2023 اور 2025 کے درمیان تقریباً دگنی ہو گئی ہیں۔ بدھ کو سرکاری میڈیا کے فراہم کردہ تجارتی اعداد و شمار کے مطابق چینی صارفین کی بڑھتی ہوئی طلب سے ملک کے شمالی پہاڑی علاقہ جات میں اعلیٰ معیار کے میوے کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان کے چلغوزے کے لیے چین اہم ترین بیرونِ ملک منڈی کے طور پر ابھرا ہے اور تاجروں کا اندازہ ہے کہ 80-90 فیصد برآمدات اب دنیا کی دوسری بڑی معیشت کو جاتی ہیں۔ یہ رجحان دیرینہ اتحادی ممالک کے درمیان زرعی تجارت کی توسیع کی نشاندہی کرتا ہے اور پاکستان کے بعض دور دراز علاقوں کے لوگوں کے لیے آمدنی کا بڑھتا ہوا ذریعہ فراہم کرتا ہے۔

چائنا اکنامک نیٹ کے حوالے سے چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی چین کو چلغوزے کی برآمدات 2023 میں 579.8 ٹن تھیں جو بڑھ کر 2025 میں 1,147 ٹن ہو گئیں جبکہ 2025 میں برآمدات سے حاصل کردہ آمدنی 8.2 ملین ڈالر سے بڑھ کر 18.8 ملین ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کی ایک رپورٹ میں اسلام آباد میں قائم چلغوزے کے برآمد کنندہ اے ایم انٹرپرائزز کے سربراہ عبدالمتین کے حوالے سے بتایا گیا، "چینی صارفین پتلے چھلکے، خستہ ساخت اور ہلکے ذائقے کی وجہ سے پاکستانی چلغوزے کو بہت زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔"

پاکستان کے چلغوزے کے جنگلات بلوچستان، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے بعض حصوں کے ساتھ ساتھ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں مرتکز ہیں۔ جیلن انٹرنیشنل سٹڈیز یونیورسٹی کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر امجد زرین کے مطابق شمالی اور جنوبی وزیرستان ملک کی کل پیداوار کا تقریباً 80-85 فیصد پیدا کرتے ہیں۔

زرین نے اے پی پی کو بتایا کہ پاکستان میں چلغوزے کی سالانہ پیداوار عموماً 2,100 سے 2,900 میٹرک ٹن کے درمیان ہوتی ہے جو موسمی حالات کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔

اعلیٰ ترین درآمدی غذائی مصنوعات کے لیے چینیوں کی بڑھتی ہوئی اشتہا نے پاکستانی چلغوزے کی طلب میں اضافہ کرنے میں مدد کی ہے جو اپنے ذائقے اور غذائیت کی افادیت کے باعث قابلِ قدر ہیں۔ صنعت کے عہدیداروں کا خیال ہے کہ صارفین کی بڑی تعداد اور صحت بخش میوہ میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کے باعث چین اب اس شعبے کے لیے برآمدات کی سب سے زیادہ امید افزا منزل کی نمائندگی کرتا ہے۔

بڑھتی ہوئی برآمدات کے باوجود صنعت کے ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان کے اس شعبے کو مسلسل چیلنجز کا سامنا ہے جن میں پروسیسنگ کی محدود سہولیات، ناکافی پیکیجنگ اور میوے کا غیر مستقل معیار شامل ہیں۔

عبدالمتین نے کہا، "چین اور پاکستان کے پاس زرعی پروسیسنگ اور بیش قدر برآمدات میں تعاون مستحکم کرنے کی خاطرخواہ گنجائش ہے۔"

انہوں نے کہا، صفائی، چھانٹی، پیکیجنگ، کولڈ چین لاجسٹکس اور فوڈ پروسیسنگ میں زیادہ تعاون سے پاکستانی برآمد کنندگان کو مصنوعات کا معیار بہتر بنانے، فصل کے بعد ہونے والے نقصانات کو کم کرنے اور چین کی اعلیٰ غذائی منڈی کا بڑا حصہ حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ پروسیسنگ اور برانڈنگ میں سرمایہ کاری سے پاکستان کو خام اجناس کی برآمدات سے آگے بڑھنے اور قیمتی ترین خاص زرعی مصنوعات سے زیادہ منافع حاصل کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں