امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے امید ظاہر کی ہے کہ لبنانی اور اسرائیلی حکام کے درمیان جاری مذاکرات، جس میں واشنگٹن سہولت کاری کر رہا ہے، ایک مشترکہ بیان اور ایک واضح ورک پلان پر ختم ہوں گے۔ مارکو روبیو نے کانگریس کے سامنے ایک سماعت کے دوران مزید کہا کہ حزب اللہ صرف اسرائیل کے لیے نہیں بلکہ لبنان اور اس کی حکومت کے لیے ایک چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل حزب اللہ کی طرف سے راکٹ داغے جانے کے خلاف اپنا دفاع کر رہا ہے۔
ایران کے بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کے اجلاسوں کے حوالے سے ’’ العربیہ ‘‘ کے امریکی ذرائع کے مطابق ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ محکمہ خارجہ کا اجلاس ایک اہم مرحلے میں داخل ہو رہا ہے اور بات چیت میں طویل مدتی سکیورٹی معاہدے کے فارمولے پر بحث ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات میں حتمی پیش رفت ہوتی ہے تو وزیر خارجہ مارکو روبیو کی متوقع شرکت ہوگی۔ امریکی ذرائع نے جنگ بندی پر حتمی منظوری حاصل کرنے کے لیے لبنانی حکام کے ساتھ شدید رابطوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن آنے والے گھنٹوں کو لبنان- اسرائیل مذاکرات کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن سمجھتا ہے۔
واشنگٹن میں اس وقت لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور دوبارہ شروع ہو رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے تبادلے کو روکنے کے لیے ان کی رضامندی کا اعلان کیا تھا۔