حزب اللہ فرار کی حالت میں ہے ، حماس کو دوبارہ مسلح نہیں ہونے دیں گے : نیتن یاہو

اسرائیلی وزیر اعظم کے مطابق ہم اس وقت غزہ کے 60 فی صد سے زائد رقبے پر قابض ہیں اور جلد ہی 70 فی صد تک پہنچ جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حزب اللہ پسپائی اختیار کر چکی ہے۔ انھوں نے سخت لہجے میں کہا کہ وہ حزب اللہ کو اسرائیل کی جانب فائرنگ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

نیتن یاہو نے آج اتوار کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج حزب اللہ کو شدید ضربیں پہنچا رہی ہے اور وہ فرار کی حالت میں ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا "ہم نے ایک ہفتے کے دوران حزب اللہ کے 350 عناصر کو ہلاک کیا ہے"۔

نیتن یاہو نے اشارہ کیا کہ اسرائیلی فوج کے جنوبی لبنان میں آپریشن کے دوران زمین کے نیچے وسیع انفراسٹرکچر دریافت ہوا ہے۔ لبنان میں جنگ کا آغاز 2 مارچ کو ہوا، جب حزب اللہ نے 28 فروری کو ایران پر ہونے والے ابتدائی امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایرانی مرشد علی خامنہ ای کی ہلاکت کے جواب میں اسرائیل پر میزائل فائر کیے۔ اسرائیل نے فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کے وسیع سلسلے کے ساتھ جوابی کارروائی کی۔

ہفتے کے روز لبنان کی وزارت صحت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں اور کارروائیوں میں 3593 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

غزہ اور حماس تنظیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج حماس پر ہر طرف سے گھیرا تنگ کر رہی ہے۔ نیتن یاہو نے مزید کہا "ہم حماس کو دوبارہ مسلح ہونے کی اجازت نہیں دیں گے اور ان کے سرکردہ رہنماؤں کو ختم کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔" اسرائیلی وزیر اعظم نے اشارہ کیا کہ ان کی افواج اس وقت غزہ کی پٹی کے 60 فی صد سے زائد حصے پر کنٹرول رکھتی ہیں اور ان کے کہنے کے مطابق "ہم جلد ہی 70 فی صد تک پہنچ جائیں گے۔"

اسرائیل گذشتہ اکتوبر سے حماس تنظیم کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کے باوجود غزہ میں اہداف پر بم باری جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ تنظیم کے عناصر اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے فلسطینی ہلاکتوں کی تعداد 72 ہزار 961 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں اکتوبر میں جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہونے کے بعد سے اب تک 951 افراد شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں