امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں حتمی ہدف حصول کے قریب ہے : پاکستان

ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد شہباز شریف کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں حتمی ہدف "حصول کے قریب" ہے۔

شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے بعد اپنے خدشات کا اظہار کیا اور تمام فریقوں سے "تحمل کا مظاہرہ" کرنے کی اپیل کی۔

آج پیر کے روز "ایکس" پر ایک پوسٹ میں شہباز شریف نے کہا کہ حالیہ کشیدگی "کمزور جنگ بندی سے وابستہ خطرات اور ان نا گزیر نتائج کی ایک واضح یاد دہانی ہے جن کی طرف یہ لے جا سکتی ہے"۔

شہباز شریف نے مزید کشیدگی کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دینے پر زور دیا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور ایران کے درمیان رات سے پیر کی صبح تک حملوں کا تبادلہ ہوا، جو گزشتہ اپریل میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے دونوں فریقوں کے درمیان سب سے خطرناک کشیدگی ہے۔

ایران نے اتوار کی شام اسرائیل پر میزائل فائر کیے، جسے اس نے بیروت کے جنوبی مضافات کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملوں کا جواب قرار دیا۔ اس کے نتیجے میں اسرائیل نے پیر کی صبح ایران کے مختلف حصوں میں اہداف پر حملے کیے، جبکہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر حملے جاری رہے۔

اس کشیدگی نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

ٹرمپ نے پیر کے روز دونوں فریقوں سے "فوری جنگ بندی" کا مطالبہ کیا، جبکہ اطلاعات کے مطابق انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے بھی ایرانی حملوں کا جواب نہ دینے کی اپیل کی تھی۔

بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدے دار اور ایرانی فوجی قیادت نے دونوں ملکوں کے ایک دوسرے پر حملے بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں