اسلام آباد رواں ہفتے واشنگٹن اور تہران کے بیچ مفاہمت کے لیے مزید سرگرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک پاکستانی ذریعے نے آج منگل کے روز انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد رواں ہفتے کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت تک پہنچنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے اور اس سلسلے میں تمام فریقوں سے رابطے کر رہا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیا جائے گا... مزید یہ کہ تہران کے ساتھ معاہدہ اپنے حتمی مراحل میں ہے۔

ٹرمپ نے آج منگل کے روز نیویارک کے جان ایف کینیڈی ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چند دنوں کے اندر ایران کے ساتھ معاہدے کے بارے میں میرے پاس ایک تصور ہو سکتا ہے۔

امریکی صدر نے ایران کے ساتھ ایک شان دار ڈیل تک پہنچنے کی امید ظاہر کی، ان کے الفاظ میں ایران کی معیشت مشکلات کا شکار ہے اور وہ معاہدے تک پہنچنے کی ضرورت رکھتے ہیں۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل اور ایران نے گذشتہ روز باہمی حملوں کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا۔ ان حملوں نے پاکستانی ثالث کے ذریعے مہینوں سے جاری امریکی اور ایرانی فریقوں کے درمیان مذاکرات کے لیے خطرہ پیدا کر دیا تھا۔

دریں اثنا پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں حتمی ہدف کے حصول کے قریب ہے۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان اتوار کی رات سے پیر کی صبح تک حملوں کا تبادلہ ہوا، جو گذشتہ اپریل میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے دونوں فریقوں کے درمیان سب سے خطرناک کشیدگی تھی۔

ایرانی فورسز نے اتوار کی شام اسرائیل پر میزائل داغے، جسے انہوں نے بیروت کے جنوبی مضافات کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملوں کا جواب قرار دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں اسرائیلی فورسز نے ایران کے مختلف حصوں میں اہداف پر حملے شروع کر دیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں