اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے ایران کے ساتھ لڑائی روکنے کا اعتراف کر لیا تاہم مستقبل میں ہونے والے کسی بھی حملے کا جواب بھرپور قوت سے دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان حملوں کا تبادلہ موجودہ مرحلے پر رک گیا ہے۔ انہوں نے تہران کو دھمکی دی کہ اگر اس نے ان کے ملک پر دوبارہ حملہ کیا تو اسے زوردار ضربیں لگائی جائیں گی۔
انہوں نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ اس وقت اس محاذ پر لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ تہران میں دہشت گرد حکومت پر ہمارے وار کرنے کے بعد اس نے ہم پر حملہ کرنا بند کر دیا ہے۔ اگر ایران نے ہم پر دوبارہ حملے شروع کرنے کی غلطی کی تو ہم پوری طاقت سے جواب دیں گے۔ نتن یاہو نے مزید کہا کہ اسرائیل ایران کے اتحادی حزب اللہ گروپ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا اسرائیل کو دفاعِ خود اختیاری کا مکمل حق حاصل ہے جسے وہ ضرورت کے مطابق انتہائی حد تک استعمال کرے گا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے زور دیا کہ اسرائیل جب بھی ضرورت پڑتی ہے تو اپنے دفاع کے حق کا استعمال کرتا ہے۔ اسرائیل کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے ۔ میں آپ کو یہ بات بتا رہا ہوں، جیسا کہ میں نے اپنے دوست صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنی نتیجہ خیز گفتگو میں پورے احترام اور تقدیس کے ساتھ بھی یہی بات کی ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ ایران اور حزب اللہ کو نمایاں طور پر کمزور کر دیا گیا ہے لیکن ان کے ساتھ اسرائیل کا ٹکراؤ ابھی ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیل پر ایک نیا معاوضہ مسلط کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے سوچا تھا کہ وہ لبنانی سرزمین اور ایران سے اسرائیل پر فائرنگ کریں گے اور ہم کوئی حرکت نہیں کریں گے۔ ایسا نہیں ہوا اور نہ ہی کبھی ہوگا۔
یاد رہے ایران اور اسرائیل نے پیر کے روز مڈل ایسٹ کی جنگ میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد پہلی بار دونوں فریقین کے درمیان حملوں کے تبادلے کے بعد ایک دوسرے پر حملے روکنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی مسلح افواج کی مشترکہ کمانڈ، جسے "خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹرز" کے نام سے جانا جاتا ہے، نے کہا ہے کہ تہران نے پیر کے روز اسرائیل کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں ختم کر دی ہیں ۔ ایرانی کمانڈ نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر اپنے حملے جاری رکھے تو اس سے بھی شدید حملے کیے جائیں گے۔ ایران نے لبنان کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملوں کا ایک دردناک جواب دیا ہے۔ یہ بات ایرانی قومی ریڈیو پر نشر ہونے والے ایک بیان میں کہی گئی۔
دوسری طرف ایک اعلیٰ درجہ کے اسرائیلی اہلکار نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر ہم ایران پر حملے روک دیں گے۔ یہ بیانات سکیورٹی کے امور کی نگران چھوٹی کابینہ کے اجلاس کے اختتام پر دیے گئے۔ اہلکار کے مطابق کہ ہم لبنان میں اپنی کارروائیاں پوری طاقت کے ساتھ جاری رکھیں گے اس اصول کے تحت کہ اگر انہوں نے بستیوں کی طرف فائرنگ کی تو ہم بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے (ضاحیہ) پر ضرب لگائیں گے۔
اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے اسرائیلی اہلکار نے مزید کہا کہ اسرائیل نے تعلقات منقطع کیے بغیر اور تزویراتی شراکت داری کو برقرار رکھتے ہوئے صدر ٹرمپ کے سامنے بھی اپنے دفاع کے حق کا تحفظ کرنے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ موجودہ کشیدگی ختم ہو چکی ہے۔