جنوب لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں کو سو دن مکمل ہو گئے ہیں، انسانی و مادی نقصانات میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے، اگرچہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے آغاز کے بعد امریکہ کی سرپرستی میں جنگ بندی کا اعلان کیا جا چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 2 مارچ سے اب تک جاری اسرائیلی کارروائیوں میں 3637 افراد جاں بحق اور 11188 زخمی ہو چکے ہیں۔
لبنانی مسلح افواج کے 47 اہلکار جاں بحق
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مسلح افواج کو ہونے والے نقصانات میں 47 اہلکار جاں بحق ہوئے ہیں، جن میں 29 اہلکار لبنانی فوج کے شامل ہیں۔
یہ تفصیلات وزیر دفاع میشال منسی نے گزشتہ روز سرائے حکومت میں منعقدہ کابینہ کے باقاعدہ اجلاس کے دوران پیش کیں۔
اسی دوران جنگ کے باعث حزب اللہ کی صفوں میں نقصانات میں اضافہ ہوا ہے، اس کے ساتھ ساتھ اس کے حمایتی حلقوں کو بھی بھاری جانی و مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
کئی خاندان اپنے گھروں سے محروم ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جس پر بعض متاثرین کی جانب سے شدید غصے اور ناراضی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ یہ قربانیاں ایک بیرونی ایجنڈے کے لیے دی جا رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حزب اللہ کو میدانِ جنگ میں افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث اب کم عمر، حتیٰ کہ بیس سال سے کم عمر افراد کو بھی لڑائی میں شامل کیا جا رہا ہے۔
اس سے پہلے کی جھڑپوں میں وہ تجربہ کار جنگجو بڑی تعداد میں کھو چکا ہے جن کی عمریں تیس سال سے زائد تھیں اور جنہیں عسکری مہارت میں بنیادی حیثیت حاصل تھی۔
18 سال سے کم عمر کے جنگجو
سکیورٹی ذرائع کے مطابق العربیہ ڈاٹ نت/الحدث ڈاٹ نیٹ کو بتایا گیا ہے کہ حزب اللہ 18 سال سے کم عمر کے جنگجوؤں کو بھی استعمال کر رہا ہے اور انہیں جنوب لبنان میں لڑائی کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔
ذرائع نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے کم عمر افراد پر انحصار کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ میدانِ جنگ میں اپنے کئی تجربہ کار جنگجو پہلے ہی کھو چکا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ حزب اللہ نے ایران کی حمایت میں ہونے والی جنگ میں ہزاروں جنگجوؤں کو کھو دیا ہے، جبکہ 2024 میں غزہ کی حمایت میں ہونے والی کارروائیوں میں بھی اس کے ہزاروں افراد مارے گئے۔
یہی صورتحال اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ اب تنظیم کم عمر جنگجوؤں کو استعمال کر رہی ہے، خاص طور پر اس وجہ سے کہ وہ اپنے کئی اہم کمانڈرز، ذمہ داران اور اعلیٰ عسکری تربیت یافتہ تجربہ کار جنگجوؤں کو بھی کھو چکی ہے۔
دوسری جماعتوں سے
اس حوالے سے جو اشارہ حزب اللہ کی جانب سے تجربہ کار جنگجوؤں کی کمی پوری کرنے کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے، ذرائع نے بتایا ہے کہ جنوبی لبنان میں جاری لڑائیوں میں حزب اللہ کے اتحادی بھی شریک ہیں، جن میں حماس اور شامی قومی سوشلسٹ پارٹی شامل ہیں۔
جنگ میں 3500 افراد مارے گئے
دوسری جانب موقع ''جنوبیۃ'' کے مدیرِ اعلیٰ علی الامین نے اشارہ کیا ہے کہ حزب اللہ اب نوجوان نسل کے جنگجوؤں پر زیادہ انحصار کر رہا ہے کیونکہ پیشہ ور اور تجربہ کار فورسز کی بڑی تعداد کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
انہوں نے العربیہ ڈ اٹ نیٹ /الحدث ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے بیان میں کہا کہ حالیہ جنگ میں حزب اللہ کے تقریباً 3500 جنگجو مارے گئے ہیں، جن کا باقاعدہ اعلان سرکاری تعزیتی بیانات میں نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ حزب اللہ کے زیادہ تر جنگجو عمارتوں کے ملبے تلے مارے گئے، کیونکہ وہ یا تو ان گھروں میں موجود تھے جنہیں نشانہ بنایا گیا یا ان مقامات پر پناہ لیے ہوئے تھے جہاں حملے ہوئے۔
اس کے برعکس، نسبتاً کم تعداد میں افراد براہِ راست جھڑپوں میں ہلاک ہوئے، خاص طور پر الخیام اور بنت جبیل جیسے علاقوں میں شدید لڑائی کے دوران۔
یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب صور، نباطیہ، صیدا اور زہرانی کے دیہات اور قصبوں پر اسرائیلی فضائی و توپ خانے کے حملے جاری ہیں اور گھروں کی مسماری کی پالیسی بھی جاری ہے، جبکہ واشنگٹن میں سفارتی مذاکرات اور جنگ بندی کو مستحکم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
اندازوں کے مطابق 2024 سے اب تک اس جنگ کے براہِ راست اور بالواسطہ نقصانات 25 سے 26 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔
-
ایرانی دھمکیوں کے باوجود لبنان پر فوجی دباؤ بڑھایا جائے گا : اسرائیلی اعلان
اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے کہا ہے لبنان کے خلاف اسرائیلی فوج کی جاری جنگی مہم کو ...
مشرق وسطی -
اسرائیل کا لبنانی شہر صور میں گاڑی پر حملہ
اسرائیل کی فوج نے جنوبی لبنان کےشہر صور میں ایک گاڑی کو نشانہ بنانے کے لیے حملہ ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی فوج کا خان یونس میں فضائی حملے میں القسام بریگیڈز کے ارکان کو قتل کرنے کا دعویٰ
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں حماس کے بحری پولیس ہیڈکوارٹر ...
مشرق وسطی