ٹرمپ اور خطے کو تباہ کن جنگ میں دھکیلنے کے قریب کر دینے والے 24 گھنٹے
کشیدگی میں اضافہ نیتن یاہو کو بچاتی ہے اور امریکہ میں ٹرمپ کو کمزور کرتی ہے: امریکی عہدیدار
ایک امریکی رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں نے یہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس سے بچنے کی خواہش کے باوجود امریکہ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ ایک وسیع فوجی تصادم کی طرف کھینچے جانے کے کتنے قریب پہنچ گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ پیر کے روز اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کو عارضی طور پر کم کرنے میں کامیاب رہے تاہم اس امن کا مستقبل اب بھی غیر واضح ہے۔ تنازع کسی حتمی معاہدے تک پہنچے بغیر اپنے سویں دن میں داخل ہو چکا ہے۔
ویب سائٹ ’’ ایکسیوس‘‘ کے مطابق ٹرمپ نے خود کو ایک پیچیدہ مخمصے کے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔ ایک طرف وہ جانتے ہیں کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے لیے ایرانی میزائل حملے کو بغیر کسی جواب کے نظر انداز کرنا کتنا مشکل ہے اور دوسری طرف انہیں یہ خوف ہے کہ حملوں کا یہ تبادلہ خطے میں ایک ہمہ گیر جنگ کا باعث بن سکتا ہے۔ ٹرمپ نے ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو کو متنبہ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ میں جانے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اسرائیل خود کو اکیلا لڑتا ہوا پائے گا۔
بحران اتوار کی صبح اس وقت شروع ہوا جب اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ سے وابستہ ایک مقام کو نشانہ بناتے ہوئے حملہ کیا۔ اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے امریکی سینٹرل کمانڈ کو اس آپریشن کے بارے میں پہلے سے مطلع کر دیا تھا لیکن اس نے وائٹ ہاؤس کو مطلع نہیں کیا۔
ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ٹرمپ اس حملے کے کیے جانے پر مطمئن نہیں تھے۔ حملے کے بعد ایران نے اسرائیل کی طرف میزائل داغے، کیونکہ اس نے بیروت کو نشانہ بنانے کی صورت میں جواب دینے کا عہد کر رکھا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے واقعات تیزی سے آگے بڑھتے چلے گئے۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان روابط
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ٹرمپ نے اتوار کی شام نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور ان سے ایرانی حملے کا جواب نہ دینے کا مطالبہ کیا۔ اسرائیلی ذرائع نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بتایا کہ یا تو وہ چند دنوں میں ایران کے ساتھ کسی ایسے معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو حملوں کو غیر ضروری بنا دے گا یا سفارتی راستہ ناکام ہونے کی صورت میں وہ خود تہران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کی قیادت کر سکتے ہیں۔
امریکی اور اسرائیلی عہدیداروں نے کہا کہ یہ کال چند دن پہلے ہونے والے پچھلے رابطے کے مقابلے میں زیادہ پرسکون تھی جب ٹرمپ نے جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کے خدشات پر نیتن یاہو کو سخت ڈانٹ پلائی تھی۔ دوسری طرف نیتن یاہو نے دلیل دی کہ ایرانی حملے کا جواب نہ دینا تہران کو کمزوری کا پیغام بھیجے گا، اسرائیل اور امریکہ کو نقصان پہنچائے گا اور ٹرمپ کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کے امکانات کو سبوتاژ کردے گا۔
اسرائیل کے حملے جاری
امریکی دباؤ کے باوجود نیتن یاہو نے سکیورٹی اجلاسوں کے بعد وائٹ ہاؤس کو مطلع کیا کہ انہوں نے ایرانی اہداف کے خلاف حملے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل نے واشنگٹن کو اس آپریشن کے بارے میں بہت دیر سے مطلع کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ پہلے ہی روانہ ہو چکے تھے لیکن میں آخر کار حملے کے حجم کو محدود کرنے میں کامیاب رہا۔ ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ نیتن یاہو اور دیگر عہدیداروں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے رابطہ کیا تاکہ ان اہداف کی نوعیت کے بارے میں سمجھوتہ کیا جا سکے جنہیں نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیل نے بعد میں ایران کے سب سے بڑے پیٹرو کیمیکل کمپلیکس سے وابستہ تنصیبات پر حملے کیے۔ اسرائیل نے تہران میں دیگر اہداف کو بھی نشانہ بنایا جس نے ایران کو تل ابیب کی طرف میزائلوں کی نئی کھیپ داغنے پر مجبور کردیا۔ پیر کی صبح دونوں طرف سے حملوں کے مزید دو دور دیکھے گئے جس نے خطے کو ایک بڑے پیمانے کی جنگ شروع ہوجانے کے قریب کر دیا۔ وزارت دفاع کے دو امریکی عہدیداروں نے تصدیق کی کہ امریکی افواج نے اسرائیلی حملوں میں حصہ نہیں لیا لیکن انہوں نے ایرانی میزائلوں کو روکنے میں اسرائیلی فوج کی مدد کی۔
کشیدگی روکنے کے لیے علاقائی دباؤ
ٹرمپ نے کہا کہ انہیں خطے کے پانچ ممالک سے فون آئے جنہوں نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ حملے روکنے کے لیے نیتن یاہو پر دباؤ ڈالے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ کو پیر کی صبح ایران سے بھی پیغامات موصول ہوئے جن میں کہا گیا تھا کہ اگر اسرائیل اپنی فوجی کارروائیاں روک دے تو وہ حملے روکنے کے لیے تیار ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل گزشتہ اپریل کے بعد سے ایران کے خلاف حملوں کی سب سے بڑی لہر کی تیاری کر رہا تھا جس میں درجنوں حساس اہداف شامل تھے۔ اس کے بعد ٹرمپ نے دوبارہ مداخلت کی اور نیتن یاہو سے آپریشن روکنے کا مطالبہ کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو سے کہا کہ تمہیں محتاط رہنا ہوگا ورنہ تم جلد ہی خود کو اکیلا پاؤ گے۔
ایک اسرائیلی ذرائع کے مطابق یہ رابطہ ایک ایسے معاہدے پر ختم ہوا جس کے تحت اسرائیل حملوں سے پیچھے ہٹ جائے گا اگر ایران نئے حملے کرنے سے باز رہے۔ اس صورت حال نے نیتن یاہو کو آپریشن منسوخ کرنے کے احکامات جاری کرنے پر مجبور کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ گھنٹوں کے واقعات نے امریکہ اور اسرائیل کے سٹریٹجک مفادات کے درمیان اور ٹرمپ اور نیتن یاہو دونوں کے سیاسی حساب کتاب کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو ظاہر کیا ہے۔
ویب سائٹ ’’ ایکسیوس‘‘نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا کہ نیتن یاہو کو اسرائیل میں سیاسی طور پر باقی رہنے کے لیے جنگ جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ کو امریکہ میں اپنے سیاسی مقام کو برقرار رکھنے کے لیے اسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔