کاغذی کتابیں ڈیجیٹل کےمقابلے میں دماغ پراثرانداز ہونےاورمعلومات کےانضمام میں زیادہ معاون
پرنٹ شدہ مواد پڑھنے سے دماغی کارکردگی اور معلومات کو منظم کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے:جاپانی یونیورسٹی کی تحقیق
جاپان کی یونیورسٹی آف ٹوکیو کے محققین کی جانب سے کی گئی ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ مطالعے کے ذرائع یعنی کاغذی کتابوں یا ڈیجیٹل ٹیبلیٹ کے لحاظ سے دماغ معلومات کو پروسیس کرنے کے طریقے میں مختلف ردعمل دیتا ہے۔ یہ نتائج مستقبل میں تعلیمی فیصلوں اور ڈیجیٹل مطالعے کے لیے تیار کردہ آلات اور سافٹ ویئر کے ڈیزائن پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
نیورو سائنس نیوز کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اس تحقیق کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ آیا کاغذ پر پڑھنا یا ڈیجیٹل آلات کا استعمال دماغی سطح پر کہانیوں کو سمجھنے اور انہیں یاد رکھنے پر اثر انداز ہوتا ہے۔
محققین نے اپنے تجربے میں دو حصوں پر مشتمل ایک مزاحیہ کہانی کا سہارا لیا۔ شرکاء نے کہانی کا پہلا حصہ یا تو کاغذی شکل میں پڑھا یا الیکٹرانک ٹیبلیٹ کے ذریعے۔ اس کے بعد انہوں نے ایف ایم آر آئی مشین کے ذریعے دماغی سکیننگ کروائی جبکہ وہ کہانی کا دوسرا حصہ ایل سی ڈی عینک کے ذریعے پڑھ رہے تھے اور پھر انہوں نے کہانی کے مواد سے متعلق سوالات کے جوابات دیے۔
زیادہ وقت درکار
نتائج سے ظاہر ہوا کہ شرکاء دونوں صورتوں میں سوالات کے درست جوابات دینے میں کامیاب رہے تاہم جنہوں نے کہانی کا پہلا حصہ ٹیبلیٹ پر پڑھا انہیں زیادہ پیچیدہ سوالات کے جواب دینے میں زیادہ وقت درکار ہوا بالخصوص وہ سوالات جو کہانی کے دونوں حصوں میں موجود معلومات کو یکجا کرنے سے متعلق تھے۔
دماغی تصویروں سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ پڑھنے کے پہلے ذریعے کے لحاظ سے اعصابی سرگرمی میں واضح فرق موجود ہے۔ جب سکینر کے اندر کہانی کا دوسرا حصہ پڑھا گیا تو جن شرکاء نے پہلا حصہ کاغذ پر پڑھا تھا ان کے دماغ کے سامنے والے حصوں میں سرگرمی کم دیکھی گئی جو زبان اور لسانی انضمام نیز کہانی کی تعمیر کے عمل سے منسلک ہیں۔ یہ نتائج بتاتے ہیں کہ کاغذی مطالعہ دماغ کو معلومات کو زیادہ مؤثر طریقے سے اور کم ذہنی کوشش کے ساتھ منظم کرنے میں مدد دے سکتا ہے جس سے بعد میں معلومات کی پروسیسنگ کا بوجھ کم ہو جاتا ہے۔
یہ تحقیق الیکٹرانک ریڈنگ ڈیوائسز کے پھیلاؤ کے بعد سے ڈیجیٹل مطالعے کے فوائد اور ان کے فہم و ادراک پر ممکنہ اثرات کے بارے میں جاری بحث کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ یونیورسٹی آف ٹوکیو کے شعبہ بنیادی علوم کے نیورو لسانیات کے ماہر پروفیسر کونیوشی سکائی کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے سے ان سوالات میں دلچسپی رکھتے تھے جس کے بعد ایک جاپانی پبلشنگ ہاؤس نے ان سے اس موضوع پر سائنسی بنیادوں پر تجرباتی مطالعہ کرنے کے لیے رابطہ کیا۔
سکائی نے وضاحت کی کہ ایف ایم آر آئی مشین کے اندر ٹیبلیٹ لے جانا ممکن نہیں ہے کیونکہ مشین کی مقناطیسی فطرت بہت زیادہ طاقتور ہوتی ہے لہذا تجربہ اس طرح ڈیزائن کیا گیا کہ شرکاء کہانی کا پہلا حصہ مشین سے باہر کاغذ یا ٹیبلیٹ پر پڑھتے تھے اور دوسرا حصہ اندر ایل سی ڈی عینک کے ذریعے پڑھتے تھے۔
محقق نے مزید کہا کہ نتائج صرف مطالعہ میں استعمال ہونے والی مزاحیہ کہانیوں تک محدود نہیں ہو سکتے بلکہ یہ امکان ہے کہ یہ ناولوں اور دیگر بیانیہ تحریروں پر بھی لاگو ہوں کیونکہ ان تمام تحریری مواد کی ساخت اور سیاق و سباق میں مماثلت پائی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تجربے میں طنزیہ کہانیوں کے استعمال سے محققین کو ایک اضافی فائدہ ملا کیونکہ ان کہانیوں میں بصری عناصر بھرپور ہوتے ہیں جو مناظر اور واقعات کو زیادہ واضح طور پر سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
تحقیقی ٹیم کا ماننا ہے کہ کاغذی مطالعے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ مستقل مقامی اور لمسی اشارے فراہم کرتا ہے جن کی نقل کرنے میں ڈیجیٹل آلات ابھی تک پوری طرح ناکام ہیں۔ یہ اشارے دماغ کو معلومات کو منظم کرنے اور انہیں زیادہ مؤثر طریقے سے یاد رکھنے میں مدد دیتے ہیں جس سے کاغذی کتابوں کو گہرے فہم اور معلومات کی پروسیسنگ کے بعض پہلوؤں میں نسبتاً فوقیت حاصل رہتی ہے۔
-
کیٹی پیری اور جسٹن ٹروڈو کی پہلی بار ایک ساتھ ریڈ کارپٹ پر شرکت
معروف گلوکارہ کیٹی پیری اور کینیڈا کے سابق وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو کے تعلقات ایک نئے ...
بين الاقوامى -
گلوبل ڈیٹا فیسٹیول: سعودی سربراہ برائے شماریات نے ڈیٹا، اے آئی انٹیگریشن کو فروغ دیا
سعودی عرب کے اعلیٰ شماریات دان نے کینیا میں ایک بڑے بین الاقوامی ڈیٹا سمٹ کے موقع ...
بين الاقوامى -
مصری زرعی شعبے کو نیا خطرہ، اجنبی پرندہ تیزی سے پھیلنے لگا
گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مصر کے کئی صوبوں میں طائرِ مائینا کی نمایاں افزائش دیکھی ...
بين الاقوامى