گلوبل ڈیٹا فیسٹیول: سعودی سربراہ برائے شماریات نے ڈیٹا، اے آئی انٹیگریشن کو فروغ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب کے اعلیٰ شماریات دان نے کینیا میں ایک بڑے بین الاقوامی ڈیٹا سمٹ کے موقع پر ریاض میں 2026 کے یو این ورلڈ ڈیٹا فورم کی تیاریوں کے بارے میں بات کی اور پائیدار ترقی کی حمایت کے لیے مصنوعی ذہانت، جغرافیائی معلومات اور شماریاتی نظام کو مربوط کرنے کے لیے مملکت کی کوششوں کو نمایاں کیا۔

سعودی پریس ایجنسی نے نیروبی میں دو سے پانچ جون تک گلوبل ڈیٹا فیسٹیول میں جنرل اتھارٹی برائے شماریات کے صدر فہد الدوسری کی شرکت کی اطلاع دی۔

الدوسری نے اس اجتماع میں GASTAT کے وفد کی قیادت کی جس کے تحت عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں ڈیٹا کے بڑھتے ہوئے کردار اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے تمام دنیا کے سرکاری حکام، شماریات اور ٹیکنالوجی کے ماہرین اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔

اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے الدوسری نے کہا، سعودی عرب ڈیٹا اور شماریاتی نظام کو مضبوط بنانے، جدت طرازی کی حمایت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے بین الاقوامی تعاون کو وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔ ترقیاتی چیلنجوں سے نمٹنے اور فیصلہ سازی کو بہتر بنانے کے لیے

سرکاری اعدادوشمار، جغرافیائی معلومات اور اے آئی کو مربوط کرنا اہم ہو گا۔

تقریب کے موقع پر الدوسری نے نو سے 12 نومبر تک ریاض میں یو این ورلڈ ڈیٹا فورم 2026 کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بین الاقوامی تنظیموں اور قومی شماریاتی اداروں کے ساتھ اجلاس کیا۔

گفتگو میں "روڈ ٹو ریاض" اقدام اور نیروبی فیسٹیول کے نتائج کو عالمی فورم کی تیاریوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوششوں پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔

ریاض فورم کے انتظامات کا جائزہ لینے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے مواقع دریافت کرنے کے لیے الدوسری نے گلوبل پارٹنرشپ فار سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ ڈیٹا کی سی ای او جینا سلوٹن سے بھی ملاقات کی۔

نیروبی کی تقریب افریقہ میں اس گلوبل ڈیٹا فیسٹیول کا پہلی بار انعقاد ہے جس سے علاقائی ٹیکنالوجی اور اختراعی مرکز کے طور پر کینیا کی بڑھتی ہوئی شہرت نمایاں ہوئی۔

منتظمین نے کہا کہ 1,500 سے زائد مندوبین نے اس اجلاس میں شرکت کی جس میں موسمیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ اور اقتصادی ترقی سے نمٹنے کے لیے ڈیٹا، اے آئی اور خلائی ٹیکنالوجیز کے استعمال پر توجہ مرکوز کی گئی۔

کینیا کے اکنامک پلاننگ ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ "ڈیٹا اور ٹیکنالوجی کے ذریعے لچک، اختراع اور شراکت داری کو طاقت دینا" کے موضوع کے تحت تقریباً 90 ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔

میلے کا افتتاح کینیا کے نائب صدر کیتھور کنڈیکی نے کیا جنہوں نے زراعت، موسمیاتی لچک اور اقتصادی ترقی میں اے آئی اور ارتھ آبزرویشن ٹیکنالوجیز کے امکانات کو کھولنے کے لیے مضبوط شراکت داری پر زور دیا۔

کینیا کے حکام نے ملک کے قومی ادارۂ شماریات کی وہ کوششیں نمایاں کرنے کے لیے بھی اس تقریب کا استعمال کیا جو وہ سیٹلائٹ امیجری، ریئل ٹائم اینالیٹکس اور دیگر ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے ڈیٹا جمع کرنے اور تجزیہ کی جدید کاری کے لیے کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں