ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بدھ کے روز کہا کہ امریکہ کے ساتھ سفارتی کوششیں اس وقت آگے نہیں بڑھ سکتیں، جب تک جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ یہ بیان ایران اور امریکہ کے درمیان رات کے وقت ہونے والے باہمی حملوں کے بعد سامنے آیا۔
بقائی نے واشنگٹن پر الزام عائد کیا کہ وہ متضاد پیغامات، مؤقف میں تبدیلی اور جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے ذریعے سفارتی عمل کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
ان کے مطابق اسرائیل بھی لبنان میں جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کے ذریعے اس عمل کو متاثر کر رہا ہے، جیسا کہ رائٹرز نے رپورٹ کیا۔
معاہدہ اب بھی قریب :
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ،جب ایک امریکی عہدیدار نے آج اس سے قبل کہا کہ کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا، اور ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی قریب ہے، اگرچہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان باہمی حملے جاری ہیں۔
ان کے مطابق مذاکراتی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، چاہے فوجی کارروائیاں بھی ہوئی ہوں، جیسا کہ اخبار ''پولیٹیکو'' نے رپورٹ کیا۔
عہدیدار نے مزید بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی یہی خیال ہے کہ جوابی حملوں کے باوجود ایران کے ساتھ معاہدہ قریب ہے۔
بڑی پیش رفت:
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے منگل کی شب اس بات پر امید ظاہر کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جلد معاہدہ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاری مذاکرات میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے اور کامیابی کے امکانات کافی بڑھ گئے ہیں۔
وینس نے سی بی ایس کو انٹرویو میں کہا کہ واشنگٹن اس پوزیشن میں آ گیا ہے، جہاں وہ تہران کے ساتھ اچھا معاہدہ کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق دونوں فریق بہت قریب ہیں کہ اہم معاملات پر حتمی سمجھوتہ ہو جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر مذاکرات اسی رفتار سے جاری رہے تو معاہدہ آئندہ ہفتے تک بھی ہو سکتا ہے، تاہم کچھ پیچیدہ مسائل کے باعث اس میں مزید چند ماہ کی تاخیر بھی ممکن ہے۔
باہمی حملے:
دوسری جانب اشارہ کیا جا رہا ہے کہ امریکہ نے گزشتہ رات جنوبی ایران میں متعدد اہداف پر فضائی حملے کیے، یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ''اپاچی'' ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا تھا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان امن کے امکانات پر مزید سوالات اٹھ گئے ہیں۔
اس کے جواب میں ایرانی افواج نے بھی میزائل اور ڈرونز کے ذریعے کویت، بحرین اور اردن میں موجود امریکی اڈوں کی جانب کارروائیاں کیں، تاہم رپورٹ کے مطابق ان تمام حملوں کو روک لیا گیا اور انہیں ناکام بنا دیا گیا۔
اسی دوران اسرائیل اور ایران کے درمیان بھی اتوار کی شام سے پیر کی صبح تک باہمی جھڑپیں جاری رہیں، بعد ازاں دونوں فریقوں نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کے بعد حملے روکنے کا اعلان کیا۔
یہ تازہ کشیدگی امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، جبکہ یہ جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی تھی، اگرچہ امریکی صدر بار بار اس بات کا دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔