پیر کے روز آبنائے ہرمز کے اوپر ایک ایرانی ڈرون کے ذریعے گرائے جانے والے اپاچی ہیلی کاپٹر کے پائلٹو
ں کو بچانے کے لیے امریکی بحریہ نے پہلی بار ایک خود کار سمندری ڈرون کا استعمال کیا۔
یہ سمندری ڈرون "کورسیر" ماڈل کا ہے جسے "سارونک" کمپنی تیار کرتی ہے اور اس کی لمبائی 7.3 میٹر ہے۔ یہ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) کی روایتی اثاثوں کے ساتھ ساتھ خودکار گاڑیوں کے استعمال کو بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق "ٹاسک فورس 59" جو 2021 میں قائم کی گئی تھی اور جس کا ہیڈکوارٹر بحرین میں ہے، امریکی بحریہ کا پہلا یونٹ ہے جو خود کار سسٹمز کے لیے مختص ہے۔ روئٹرز کے مطابق اس فورس نے گذشتہ مارچ کے آخر میں مشرق وسطیٰ میں سمندری ڈرونز کی تعیناتی شروع کی تھی۔
امریکہ نے سطح پر چلنے والے سمندری ڈرونز اور پانی کے اندر چلنے والی گاڑیاں تعینات کی ہیں، جس سے کمانڈروں کو ضروریات کے مطابق لچک ملتی ہے۔ واضح رہے کہ پانی کے اندر کام کرنے والے کئی جدید ترین سسٹمز ابھی بھی انتہائی خفیہ ہیں۔ یہ ڈرونز منفرد صلاحیتیں فراہم کرتے ہیں اور امریکی فوج کو درپیش خطرات کو کم کرتے ہیں۔
ان سمندری ڈرونز کا استعمال نگرانی، بارودی سرنگوں کی نشان دہی اور دشمن کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ کو جنگی کردار ادا کرنے کے لیے بھی تبدیل کیا جا رہا ہے اور یہ عام نگرانی اور زیادہ خطرے والے مشنز میں مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
پینٹاگان سمندری ڈرونز میں اس لیے سرمایہ کاری کر رہا ہے کیونکہ یہ رسائی کو بڑھانے اور خطرات کے خلاف تیزی سے رد عمل ظاہر کرنے کا معاشی طور پر قابل عمل طریقہ ہے۔ اسی لیے بحریہ کی منصوبہ بندی ہے کہ وہ اس طرح کے سمندری ڈرونز کی بڑی تعداد، یعنی سیکڑوں اور شاید ہزاروں کی تعداد میں تعینات کرے۔
یاد رہے کہ سمندری ڈرون ٹیکنالوجی ابھی بھی ترقی کے مراحل میں ہے اور اسے تکنیکی و آپریشنل چیلنجوں کا سامنا ہے۔