ٹرمپ: ایران کے اپاچی کو گرانے پر ہمارا ردعمل بہت مضبوط اور فیصلہ کن ہو گا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز پر امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرائے جانے کے بعد، امریکہ نے ایران کے خلاف "بہت مضبوط اور فیصلہ کن" فوجی جواب دیا ہے، جس نے دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی کو وسیع کرنے کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جو انھوں نے گذشتہ رات ہمارے ہیلی کاپٹر کے ساتھ کیا، اور میں سمجھتا ہوں کہ ردعمل بہت مضبوط ہونا چاہیے، اور موجودہ ردعمل اسی کی نمائندگی کرتا ہے۔‘
اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ ’جس ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا گیا اس میں دو پائلٹ شامل تھے، دونوں محفوظ ہیں اور زخمی نہیں ہوئے، تاہم امریکہ اس کا لازمی جواب دے گا۔‘
ٹرمپ نے بعد میں اے بی سی نیوز کو بتایا کہ ایران پر جوابی حملے ’بہت طاقتور‘ ہوں گے۔ ایک ٹیلی فون انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے لیے امریکی ہیلی کاپٹر کے گرائے جانے پر ردعمل دینا ’اہم‘ تھا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ایران کے خلاف یہ کارروائی آبنائے ہرمز کے قریب ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے حادثے کے بعد کی گئی، جس کا الزام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران پر عائد کیا تھا۔
ایران نے امریکی حملوں کا جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس سے مستقل جنگ بندی کی کوششیں ایک بار پھر مشکوک ہو گئیں۔ اس جنگ کے باعث آبنائے ہرمز عملاً بندش کا شکار ہو چکی ہے اور عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
I was on the phone with Trump as CENTCOM announced US retaliatory strikes against Iran. Here's what he said:
— Jonathan Karl (@jonkarl) June 9, 2026
"I think it's very important to respond. They shot down a helicopter, and we are responding as we speak."
He added: "This is a response to what they did they did with…
سینٹکام کا بیان
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران پر حملوں کے حوالے سے بیان میں کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایک ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے جواب میں ایران میں کارروائی کی ہے۔
سینٹکام نے ایک بیان میں کہا، ’یہ مشن بلا جواز ایرانی جارحیت کے تناسب میں ایک جواب ہے۔‘
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’تشدد کو بڑھاوا دینے والی امریکی حکومت نے آج علی الصباح جسک، سرک اور قشم کے کئی مقامات پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں سرک میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نقصان پہنچا اور شہری سپلائی کے پانی کے دو ٹینک تباہ ہو گئے۔‘
سینٹکام نے کہا کہ گرائے گئے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کے دونوں عملے کو ایک امریکی سمندری ڈرون کے ذریعے بچا لیا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ امریکی فوج نے عوامی طور پر تصدیق کی کہ اس نوعیت کی کارروائی میں اس قسم کے جہاز کا استعمال کیا گیا۔
ایران میں حملے کہاں کہاں ہوئے
ادھر جنوبی ایران میں بدھ کی صبح فضائی حملوں کے بارے میں فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے، امریکی حکام نے کہا کہ دیگر مقامات کے علاوہ حملوں میں ’20 اہداف‘ کو نشانہ بنایا گیا، جو بظاہر مختصر وقفوں پر تین لہروں میں کیے گئے تھے۔
ایران نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے جنوبی شہروں جیسا کہ جسک اور بندر عباس کے آس پاس، مناب، سرک اور کوہ مبارک کے دیہاتوں کو نشانہ بنایا گیا، لیکن اس نے ابھی تک ان تنصیبات یا مقامات کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں جن پر حملہ کیا گیا ہے۔
تاہم ہرمزگان میں مقامی حکام نے اطلاع دی ہے کہ سرک کے دیہات میں پانی کے دو ذرائع کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ہرمزگان پراونشل واٹر اینڈ ویسٹ واٹر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے کہا ہے کہ آج صبح امریکی حملوں کے بعد ’سرک کاؤنٹی میں پانی کی تقسیم کا اہم انفراسٹرکچر‘ تباہ ہو گیا ہے۔
عبدالحمید حمزہ پور نے کہا کہ ان حملوں میں، ’ضلع بیمانی میں دو سٹریٹجک آبی ذخائر کو نشانہ بنایا گیا اور مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔۔۔ جنھوں نے ضلع بیمانی اور کوہستک شہر کو پینے کا پانی فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔‘
ان کے مطابق، ’فی الحال، ضلع بیمانی اور کوہستک شہر کے تمام دیہات میں پانی کی تقسیم کا عمل روک دیا گیا ہے۔‘
"غیر ملکی افواج خطے سے نکل جائیں"
امریکی حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر جاری ایک پیغام میں لکھا ہے کہ ’میدان جنگ میں اپنے نقصانات کے باوجود، امریکہ نے ہمارے عزم کو آزمانے کی کوشش کی۔' ان کا کہنا تھا "ہماری سرزمین کے قریب موجود غیر ملکی افواج کو ہمیشہ اپنی انسانی غلطیوں، سادہ اور غیر ارادی حادثات، یا حتیٰ کہ کراس فائر کی زد میں آنے کے خطرات لاحق رہتے ہیں۔"
عراقچی کا کہنا تھا کہ ’ان خطرات کو کم کرنے کا بہترین حل یہ ہے کہ وہ ان علاقوں سے نکل جائیں۔‘ ایرانی وزیرِ خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ ’ہم سفارت کاری کی زبان میں بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ہم دیگر زبانوں میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔‘
کشیدگی میں اضافہ
امریکہ کے اپاچی ہیلی کاپٹر کی تباہی اور امریکی فوج کے حملوں نے دو ماہ پرانی جنگ بندی کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ ایک روز قبل ایران اور اسرائیل نے اس نازک جنگ بندی کے نفاذ کے بعد پہلی بار ایک دوسرے پر حملے کیے تھے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق منگل کو اسرائیلی حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی یونٹوں کے کم از کم دو اہلکار جان سے گئے۔
28 فروری سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد اس جنگ نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، دنیا بھر میں توانائی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور خوراک سمیت بہت سی بنیادی اشیا مہنگی ہو گئی ہیں۔
اپریل کی جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی کوششیں تاحال ناکام رہی ہیں، خاص طور پر اس وقت جب اسرائیل لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی مہم کو مزید تیز اور وسیع کر رہا ہے۔