برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ ایک کارگو جہاز نے یمن میں بلحاف کے جنوب مغرب میں تقریباً 88 سمندری میل کے فاصلے پر ایک چھوٹی کشتی کے قریب آنے کی اطلاع دی ہے جس پر چھ مسلح افراد سوار تھے۔
اتھارٹی نے آج بدھ کو ایک بیان میں مزید کہا کہ چھوٹی کشتی اور جہاز پر موجود مسلح سکیورٹی ٹیم کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد کشتی دور ہو گئی۔
یہ واقعہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پیش آیا ہے، جب امریکہ نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایرانی افواج کی جانب سے اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے جواب میں جنوبی ایران میں کئی مقامات پر حملے کیے ہیں۔
یہ واقعہ ایران اور اسرائیل کے درمیان اتوار کی شام شروع ہونے والی جھڑپوں کے بعد بھی پیش آیا، جس کے بعد فریقین نے ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر حملے روکنے کا اعلان کیا تھا۔
اس دوران ایران کی حمایت یافتہ حوثی تنظیم اب تک خطے میں اس حالیہ کشیدگی میں بڑے پیمانے پر شامل نہیں ہوئی ہے، ما سوا اس کے کہ اسرائیلی فوج نے کل منگل کے روز ایلات کے علاقے میں دشمن طیارے کی در اندازی کے سائرن بجنے کے بعد یمن سے داغے گئے ایک مشکوک فضائی ہدف کو مار گرانے کا اعلان کیا۔
اسلامی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قاآنی نے دو روز قبل "متحدہ مزاحمتی محاذ کی جانب سے بیک وقت رد عمل" کے بارے میں بات کی تھی۔ انہوں نے ایرانی خبر رساں ایجنسی "ارنا" کے حوالے سے مزید کہا کہ "آبنائے ہرمز سے باب المندب تک اور خلیج فارس سے بحیرہ احمر تک مزاحمت کا ایک نیا سکیورٹی بیلٹ ہو گا"۔
یاد رہے کہ لبنان میں حزب اللہ اور عراقی شیعہ دھڑے جو تہران کے حامی ہیں، انھوں نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے دوران خطے میں اسرائیلی اور امریکی اہداف پر حملے کیے تھے۔