روس کی امریکہ اور ایران سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کی طرف واپس آنے کی اپیل

پیسکوف کے مطابق کشیدگی کا نیا دور پوری عالمی معیشت کے لیے سنگین نتائج کا پیش خیمہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

روسی صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے امریکہ اور ایران کے درمیان نئی کشیدگی پر ماسکو کی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات کی راہ پر واپس آئیں۔

پیسکوف نے آج جمعرات کے روز ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ہم اس صورت حال پر فکرمند ہیں اور اس تنازع کے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہیں، نیز ہم مذاکرات کے راستے پر واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

پیسکوف نے خبردار کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کا یہ نیا دور نہ صرف مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ پوری عالمی معیشت کے لیے بھی سنگین نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ کشیدگی کا یہ نیا دور خطے کی صورت حال اور مجموعی طور پر بین الاقوامی معیشت کے لیے مزید منفی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن اور تہران پر دوبارہ زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔

اس سے قبل امریکہ نے ایران پر حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی، جس کے جواب میں تہران نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا... اور اس میں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو ہدف بنانے کا اعلان کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size