ایران نے 2026 میں 18 مظاہرین کو پھانسی دی: اقوامِ متحدہ
وولکر ترک کا جنگ اور ظالمانہ جبر کے درمیان پھنسے ایرانیوں سے اظہارِ ہمدردی
اقوامِ متحدہ نے پیر کو کہا ہے کہ ایران نے 2026 کے آغاز سے "قومی سلامتی کی بنیادوں" پر 18 مظاہرین سمیت کم از کم 40 افراد کو پھانسی دی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ وہ ایران میں جنگ اور ظالمانہ جبر کے درمیان پھنسے لوگوں کے لیے دل کی گہرائیوں سے ہمدردی محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو بتایا، سال کے آغاز سے ایرانی حکام نے "قومی سلامتی کی بنیاد پر کم از کم 40 افراد کو پھانسی دی ہے جن میں 18 مظاہرین بھی شامل ہیں۔"
ترک نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ تہران نے جنوری میں مظاہروں پر مہلک کریک ڈاؤن کے بعد سے جبر میں اضافہ کر دیا ہے۔
انہوں نے اتوار کے روز امریکہ-ایران امن معاہدے کے اعلان کا خیرمقدم کیا اور زور دیا کہ "یہ واضح ہے کہ تمام فریقین کو زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور طے شدہ معاہدہ جلد اور نیک نیتی سے نافذ کرنے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔"
انہوں نے کہا، تنازعے نے "خطے اور تمام دنیا میں انسانی حقوق پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔"
جنگ سے پہلے بھی ایران میں جبر شدید نوعیت کا تھا۔
دسمبر کے اواخر میں ایک احتجاجی تحریک کو دبانے کے لیے حکومت نے کریک ڈاؤن کیا جس میں انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔
اس حوالے سے ترک نے کہا، "جنوری میں مظاہروں کو زبردستی کچلنے کے دوران ہزاروں افراد کی ہلاکت کے بعد حکام نے اپنا وحشیانہ کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے جس کے تحت ہزاروں گرفتاریاں کیں اور شہری مقامات پر مزید سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔"