اسلام دشمنی اور اسلام و مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں ملوث برطانوی شہری ٹومی رابنسن کو تھوڑی دیر کے لیے حراست میں لیے جانے کے بعد فوری طور پر رہا کر دیا گیا ہے۔ اسے ہفتے کے روز لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔
اس کی گرفتاری ان نفرت انگیز پوسٹوں کے بعد کی گئی جب ایک ہفتہ قبل رابنس کی گئی پوسٹیں امیگرنٹس کے خلاف نفرت پھیلانے اور نسل پرستی پر اکسانے کا باعث بنی تھی۔ اس نفرت پھیلانے کا عمل شمالی آئر لینڈ کے امیگرنٹس سے تھا۔
ٹومی رابنسن کا اصل نام سٹیفن یاکسلے لینن ہے، مگر وہ اپنی عرفیت سے معروف ہے۔ اسے ہفتہ کے روز ایئرپورٹ سے حراست میں لیا گیا ، اس کے خلاف یہ کارروائی دہشت گردی اور غیر ملکیوں کے خلاف جرم کی بنیاد پر کی گئی مگر صرف تین گھنٹوں بعد اسے رہا کر دیا گیا۔
رابنسن نے اس موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر کہا اس کا فون پولیس نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ اس لیے میری مدد کی جائے تاکہ میں اپنے قانونی دفاع کے لیے فنڈز حاصل کر سکوں۔ رابنسن کا یہ ٹویٹ برطانیہ کے کئی دوسرے افراد نے بھی بار بار دہرایا۔ تاکہ اسے عوام سے فنڈ ریزنگ میں مدد مل سکے۔
ٹومی رابنسن نے پچھلے ہفتے کئی بار مسلمانوں اور اسلام دشمنی کے علاوہ امیگرنٹس کے خلاف پوسٹیں کی تھی۔ اس مہم کے بعد کئی پر تشدد واقعات بھی ہوئے، ایک برطانوی شہری نے سوڈانی شہری پر حملے کی کوشش کی تھی۔ اسی دوران ایک شخص کی آنکھ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ سوڈانی شہری نے اقدام قتل کا مقدمہ دائر کیا ہے۔