انگلینڈ 60 برس قبل ایسے گول سے عالمی چیمپین بنا جو آج بھی ایک معمّہ ہے

انگلینڈ نے 1966 میں جیوف ہورسٹ کے متنازع گول کے بعد اپنی تاریخ کا پہلا ورلڈ کپ جیتا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

جولائی 1966 کے دوران انگلستان پر سب کی نظریں مرکوز تھیں جس نے اپنی تاریخ میں پہلی بار 11 سے 30 جولائی تک فٹ بال ورلڈ کپ کے آٹھویں ایڈیشن کی میزبانی کی۔ اس ٹورنامنٹ میں 16 ٹیموں نے حصہ لیا جن میں سے زیادہ تر کا تعلق یورپی براعظم سے تھا۔ اس ٹورنامنٹ میں ایک منفرد واقعہ یہ پیش آیا کہ شمالی کوریا کی ٹیم پہلی بار ورلڈ کپ میں شریک ہوئی، جو ایشیائی براعظم کی واحد نمائندہ تھی۔

پچھلے ٹورنامنٹس کی طرح ورلڈ کپ 1966 بھی کئی عجیب و غریب واقعات اور متنازع فیصلوں کا گواہ رہا۔ آج بھی ان میں سے کچھ فیصلے بہت سے لوگوں کے لیے ایک الجھی ہوئی پہیلی بنے ہوئے ہیں۔

ٹورنامنٹ شروع ہونے سے چار ماہ قبل ٹرافی چوری ہونے اور پھر بکلز نامی کتے کے ذریعے اس کے مل جانے کے واقعے کے علاوہ، 1966 کا ورلڈ کپ کئی عجیب واقعات کا مرکز رہا۔ ایک متنازع فیصلے کے تحت اس ورلڈ کپ کے فائنل میں ایک ایسا حیران کن گول ہوا جس نے برسوں تک سوالات کھڑے کیے۔

اضافی وقت کے دوران انگلش کھلاڑی جیوف ہورسٹ نے مغربی جرمنی کے خلاف ایک مشکوک گول کیا۔ گیند گول پوسٹ سے ٹکرانے کے بعد گول لائن پر گری۔ لائن مین سے مشاورت کے بعد ریفری نے انگلینڈ کے حق میں گول کا اعلان کر دیا۔ اضافی وقت کے اختتام پر انگلینڈ چار دو سے جیت گیا۔ اس گول نے آنے والے برسوں تک تنازع پیدا کیے رکھا، کیونکہ بہت سے لوگوں کا ماننا تھا کہ گیند گول لائن عبور نہیں کر پائی تھی۔ مزید برآں تجزیہ کاروں نے سوویت لائن مین توفک بہراموف پر الزام لگایا اور ریفری کے فیصلے پر اثر انداز ہونے کا ذکر کیا، جس کا تعلق انہوں نے سرد جنگ اور سیمی فائنل میں مغربی جرمنی کی سوویت یونین پر جیت سے جوڑا۔

شمالی کوریا کے کھلاڑی اٹلی کے خلاف فتح کے بعد

یہ ٹورنامنٹ سرد جنگ کے تناظر میں مغربی اور مشرقی بلاکس کے درمیان شدید دشمنی کے دوران کھیلا گیا۔ اس وجہ سے دونوں بلاکس کے ممالک کے درمیان میچ شدید کشیدہ اور تشدد سے بھرپور تھے۔ ورلڈ کپ 1966 میں شمالی کوریا کی پہلی بار شرکت ہوئی۔ اپنے گروپ میں شمالی کوریا کو سوویت ٹیم سے شکست ہوئی، جس کے بعد انہوں نے حیران کن طور پر اٹلی جیسی مضبوط ٹیم کو ایک صفر سے شکست دی اور چلی کے ساتھ میچ ڈرا کیا۔

کوارٹر فائنل میں شمالی کوریا 27 منٹ تک پرتگال کے خلاف تین صفر سے آگے تھا۔ اس لمحے کے بعد میچ کا رخ بدل گیا اور گولوں کی بارش ہوئی، جس کا اختتام پرتگال کی پانچ تین سے جیت پر ہوا۔

دوسری جانب 1966 کا ورلڈ کپ جول ریمے کپ کے نظام کے تحت کھیلا جانے والا آخری ٹورنامنٹ تھا۔ 1970 میں برازیل نے یہ ٹرافی جیت کر اسے مستقل طور پر اپنے پاس رکھ لیا، جس کے بعد آنے والے ٹورنامنٹس میں جدید ورلڈ کپ ٹرافی متعارف کرائی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size