"ایران نے اپنا رویہ درست نہ کیا" تو دوبارہ بم باری کریں گے... ٹرمپ کی دھمکی
آبنائے ہرمز آئندہ دو دنوں میں مکمل طور پر کھول دی جائے گی : امریکی صدر کا اعلان
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے اپنے وعدوں کی پاسداری نہ کی تو فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی جائیں گی۔ یہ دھمکی مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمت پر متوقع دستخط سے دو دن قبل دی گئی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔
فرانس میں آج بدھ کے روز جی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ موجود ٹرمپ نے کہا کہ اگر انہوں نے (ایرانیوں نے) اپنا رویہ درست نہ کیا تو ہم سیدھے ان کے سروں پر بم گرانے کی طرف واپس چلے جائیں گے۔ امریکی صدر نے اشارہ کیا کہ ایران کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت حتمی نہیں ہے اور اس میں پابندیوں میں فوری نرمی شامل نہیں ہے۔
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کو اگلے ایک یا دو دنوں کے اندر جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلے ہی جزوی طور پر کھلی ہے اور اگلے ایک یا دو دنوں میں مکمل طور پر کھل جائے گی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان اس معاہدے سے ایسی مذاکراتی عمل شروع ہونے کی توقع ہے جو اس جنگ کے حتمی خاتمے کا باعث بنے گا جس میں سات ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق ایران اور لبنان سے ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا، تاہم بہت سے جہاز مالکان علاقے میں بد امنی کے دوبارہ سر اٹھانے کے خدشے کے پیش نظر اب بھی احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔
بحران شروع ہونے سے پہلے عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً 20 فی صد حصہ اسی آبنائے سے گزرتا تھا۔
جنیوا میں آئندہ جمعے کو متوقع امریکی ایرانی معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کرنے والے وفود کے حوالے سے صورت حال سرکاری طور پر واضح ہو گئی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ اور سرکاری میڈیا نے ان وفود کی شناخت ظاہر کر دی ہے جو پہلے بالمشافہ دستخط اور مذاکرات کا انتظام سنبھالیں گے۔
ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے، جبکہ امریکی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس نمائندگی کریں گے۔
عراقچی معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد جنیوا میں ہی شروع ہونے والے وسیع تر تکنیکی مذاکرات کے پہلے دور میں شرکت کریں گے۔
فوکس نیوز کو دیے گئے بیان میں امریکی نائب صدر وینس نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے تہران کو کوئی بھی فائدہ ملنے سے پہلے بڑے عزم کی ضرورت ہو گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جمعہ کو جنیوا میں دستخط کی تقریب میں ان کی شرکت تہران کے لیے کوئی انعام نہیں ہے، بلکہ اس اقدام کا مقصد امریکی عوام کے لیے اچھا نتیجہ حاصل کرنا ہے۔
نائب صدر نے کہا کہ امریکہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ ایرانی وعدے کتنے سچے یا جھوٹے ہیں اور انہیں حقیقی اقدامات میں بدلنے کی سنجیدگی کتنی ہے۔
-
امریکی ایرانی معاہدے کے باوجود جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملے
اسرائیلی حملوں میں قصبہ النبطیہ الفوقا، قریبی قصبے کفرتبنیت کے مشرقی اطراف اور ...
مشرق وسطی -
ایران کا جنگ کے دوران اپنے طیارے بیرون ملک منتقل کرنے کا اعتراف
یہ اقدام ماضی میں عراق کی جانب سے اپنے طیارے تہران منتقل کرنے کی یاد تازہ کرتا ...
مشرق وسطی -
لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر ایران کا شدید ردعمل، جوابی اقدام کی دھمکی
حزب اللہ کا خیال ہے کہ ایران اس وقت تک واشنگٹن کے ساتھ جوہری معاہدہ نہیں کرے گا، ...
مشرق وسطی