بائیڈن نے دوسری مدتِ صدارت کے لیے امیدوار بن کر سنگین غلطی کی: ہیلری کلنٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکا کی سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ سابق صدر جو بائیڈن نے 2024 کے صدارتی انتخابات میں دوبارہ امیدوار بننے کا فیصلہ کرکے ''سنگین غلطی'' کی، جس سے نہ صرف انہیں ذاتی طور پر نقصان پہنچا بلکہ ان کے سیاسی ورثے اور ملک کو بھی نقصان ہوا۔

ہیلری کلنٹن نے یہ بات پیر کی شام نیویارک میں جریدے دی نیویارکر کے مدیر ڈیوڈ ریمنک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔

انہوں نے کہ:بائیڈن نے بہت بڑی غلطی کی۔ یہ ان کے لیے، ان کے سیاسی ورثے کے لیے اور ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی۔

انہوں نے پہلے کہا تھا کہ وہ دوبارہ انتخاب نہیں لڑیں گے۔ہیلری کے مطابق اگر بائیڈن 2023 کے آخر میں اپنی ابتدائی منصوبہ بندی کے مطابق اعلان کر دیتے کہ وہ دوبارہ امیدوار نہیں بنیں گے اور قیادت نئی نسل کے حوالے کر رہے ہیں، تو ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ایک حقیقی اور کھلا انتخابی مقابلہ دیکھنے کو ملتا۔

انہوں نے مزید کہا:میرا خیال ہے کہ اس مقابلے سے جو بھی امیدوار سامنے آتا، چاہے وہ نائب صدر، کوئی گورنر، سینیٹر یا کوئی اور شخصیت ہوتی، وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دے سکتا تھا۔ہیلری کلنٹن نے بائیڈن کے فیصلے کو انتہائی غلط اندازہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے انتخابی مواقع محدود کر دیے۔
ہیلری کلنٹن نے مزید کہا کہ جب جو بائیڈن نے اپنے سابقہ اعلان کے باوجود انتخابی دوڑ میں برقرار رہنے کا فیصلہ کیا اور دستبردار ہونے سے انکار کیا تو انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کو ''انتہائی مشکل صورتحال'' میں ڈال دیا۔

یاد رہے کہ بائیڈن نے ابتدا میں عندیہ دیا تھا کہ وہ دوسری مدتِ صدارت کے لیے امیدوار نہیں بنیں گے، تاہم بعد میں انہوں نے اپنا مؤقف تبدیل کر لیا اور جون 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ پہلی صدارتی مباحثے میں کمزور کارکردگی کے باوجود انتخابی مہم جاری رکھی۔

اس مباحثے کے بعد ان کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کے بارے میں وسیع پیمانے پر سوالات اٹھے تھے۔بالآخر بائیڈن جولائی 2024 میں صدارتی دوڑ سے دستبردار ہو گئے اور انہوں نے نائب صدر کمالا ہیرس کی حمایت کا اعلان کیا۔

کمالا ہیرس نے ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے بغیر کسی حقیقی ابتدائی مقابلے کے انتخاب لڑا، تاہم وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ٹرمپ نے اہم سوئنگ ریاستوں میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے صدارتی انتخاب جیت لیا تھا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب ڈیموکریٹک پارٹی 2024 کی انتخابی شکست کے اسباب کا اندرونی جائزہ لے رہی ہے۔ پارٹی کے اندر قیادت کے فیصلوں اور انتخابی عمل کی حکمتِ عملی پر تنقید میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر جو بائیڈن کی قیادت اور انتخابی مہم کے انتظام کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں