تہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمتی یادداشت انتہائی اہم پیش رفت ہے: گروسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک نہایت اہم ابتدائی پیش رفت قرار دیا ہے۔

گروسی نے جمعرات کے روز اپنے خطاب میں کہا: یہ ابتدائی معاہدہ بہت اہم ہے اور اب اس کے بعد تکنیکی کام کا مرحلہ شروع ہوگا۔انہوں نے مزید کہا: اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے امریکی اور ایرانی ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ کر عملی اقدامات پر کام کریں۔

رافیل گروسی نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے نمٹنے کے لیے متعدد آپشنز موجود ہیں اور اس حوالے سے آئندہ مذاکرات میں مختلف تجاویز پر غور کیا جا سکتا ہے۔

ابتدائی مذاکرات

سوئس حکومت نے آج بتایا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ابتدائی مذاکرات کا ایک دور کل جمعہ کو سوئٹزرلینڈ کے پہاڑی سیاحتی مقام بورگن اسٹاک (Bürgenstock) میں منعقد ہوگا۔

دوسری جانب العربیہ/الحدث کے ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات کا پہلا براہِ راست دور بھی کل ہی شروع ہوگا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ پاکستان اور قطر کی موجودگی میں ہونے والے ان مذاکرات میں ایران کے بیرونِ ملک منجمد اثاثوں، جوہری پروگرام سے متعلق سیاسی امور، اور ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے سے متعلق قانونی معاملات پر گفتگو کی جائے گی۔



ذرائع کے مطابق بعض مذاکراتی نشستوں میں ترکیہ اور سعودی عرب بھی شریک ہوں گے۔اس کے علاوہ ایک غیر اعلانیہ مذاکراتی اجلاس میں لبنان اور حزب اللہ سے متعلق امور پر بھی تبادلۂ خیال کیے جانے کا امکان ہے۔

معاہدہ فوری طور پر نافذ ہو گیا

پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والا معاہدہ دونوں فریقوں کے دستخط کے فوراً بعد نافذ العمل ہو گیا ہے، اگرچہ اس کی باضابطہ دستخطی تقریب کل جمعہ کو منعقد ہونا ابھی باقی ہے۔

شہباز شریف نےکے ملک نے دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی میں کردار ادا کیا، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ تہران آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھول دے گا، جبکہ واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کر دے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، قطر کی معاونت سے 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں اس تاریخی پیش رفت کی باضابطہ تقریب کی میزبانی کرے گا، جہاں تکنیکی سطح کے مذاکرات کا بھی آغاز ہوگا۔

امریکی اور ایرانی حکام پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ دونوں ممالک نے ایک ایسے مذاکراتی عمل پر اتفاق کیا ہے جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر حتمی تصفیے تک پہنچنا ہے، جبکہ باہمی رضامندی سے اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکے گی۔

حکام کے مطابق دونوں فریق تمام محاذوں پر دشمنانہ کارروائیاں روکنے پر بھی متفق ہو گئے ہیں۔معاہدے میں اس بات کا بھی عہد کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔

معاہدے کے متن کے مطابق امریکا ایران پر عائد بحری ناکہ بندی کو 30 دن کے اندر مکمل طور پر ختم کرے گا، جبکہ ایران آبنائے ہرمز کو کھول دے گا اور 60 دن تک تجارتی جہازوں کو بلا معاوضہ گزرنے کی اجازت دے گا۔

بعد ازاں اس اہم سمندری گزرگاہ کے انتظام سے متعلق علاقائی ممالک کے ساتھ مزید مشاورت کی جائے گی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز خبردار کیا تھا کہ اگر ایران معاہدے کی شرائط پر عمل نہ کرے تو امریکا ایرانی سرزمین پر دوبارہ فضائی حملوں کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں