امریکی محکمہ دفاع نے 80 ارب ڈالر کا ایک بڑا بل ارکان کانگریس کو بھیج دیا ہے۔ اس بل کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اس میں ایران کے خلاف جنگ کے اخراجات کے علاوہ دیگر اخراجات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں نائب وزیر دفاع سٹیفن فین برگ نے اسی ہفتے امریکی ارکان کانگریس کو فون کر کے آگاہ کیا تھا۔ یہ بات معاملے سے آگاہ ذرائع نے بتائی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں ایک باضابطہ درخواست جس میں رقم کا بھی ذکر ہوگا اگلے دنوں میں کانگریس کو ارسال کر دی جائے گی۔ جس میں پینٹاگون کے لیے خطیر رقم کا مطالبہ ہوگا۔ یہ رقم ایران کے خلاف اخراجات کے علاوہ غیر دفاعی ضروریات کے لیے بھی ہوگی۔ ذرائع کے مطابق تباہی کے واقعات سے متعلق ریلیف سرگرمیوں کے لیے بھی اس رقم کو بروئے کار لایا جائے گا۔
تاہم مغربی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک اس سلسلے میں کوئی مصدقہ کاپی حاصل نہیں کرسکا ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ابھی اس بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
البتہ پینٹاگون کے ایک عہدے دار کے مطابق ایران کے خلاف امریکی جنگ کی لاگت 25 ارب ڈالر رہی ہے۔ یہ بات پینٹاگون کے ذمہ دارنے ماہ اپریل میں تخمینے کی بنیاد پر بتائی تھی۔
تاہم ابھی ایران مخالف جنگ کے مکمل اخراجات کا اندازہ لگایا جانا باقی ہے۔ یہ ابھی تک کیپیٹل کے سامنے کھلا سوال ہے کہ امریکی اپوزیشن اس لاگت کو 200 ارب ڈالر کی اضافی رقم کی بات کی جا رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے بجٹ ڈائریکٹر رسل ووئٹ نے بھی ماہ اپریل ہی میں بجٹ سے متعلق نمائندوں کو ایک بریفنگ میں بتایا کہ ابھی جنگی اخراجات کا تخمینہ نہیں لگایا جا سکا۔ تاہم انہوں نے صدر ٹرمپ کے سالانہ فوجی اخراجات کے لیے ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کی رقم کے مطالبہ کا انہوں نے دفاع کیا۔
یہ تجویز کردہ بجٹ ری پبلکن کی آنے والے وسط مدتی انتخاب سے پہلے کی ترجیح کو ظاہر کرتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ ووٹرز میں بڑھی ہوئی بے چینی کو کم کرے جو روزمرہ کی زندگی کے اخراجات کے بڑھ جانے سے پریشان ہیں۔ ایران کے خلاف جنگ نے ان پر اضافی بوجھ لاد دیا ہے۔