برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کے مستقبل کے حوالے سے قیاس آرائیاں تیزی سے بڑھ گئی ہیں، کیونکہ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ حکومت کی قیادت سے استعفیٰ دینے پر غور کر رہے ہیں۔
یہ صورتحال لیبر پارٹی کے اندر سیاسی اور انتخابی ناکامیوں کے ایک سلسلے کے بعد بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان سامنے آئی ہے۔
اخبار آبزرور کے مطابق امکان ہے کہ اسٹارمر پیر کے روز اپنا حتمی مؤقف سامنے لائیں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی کابینہ کے وزراء، مشیروں، پارٹی فنڈرز اور ٹریڈ یونین رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کی ہے۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنی اہلیہ کے ساتھ بھی گفتگو کر رہے ہیں اور حتمی فیصلہ لندن کے نواح میں واقع وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ چیکرز میں کیا جا رہا ہے۔
اخبار کے مطابق لیبر پارٹی کی اہم شخصیات توقع کر رہی ہیں کہ آئندہ چند روز میں اسٹارمر اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں واضح اعلان کریں گے، جبکہ پارٹی کے اندر یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنا مشکل ہو چکا ہے۔
پارٹی کے اندر بغاوت
ان پیش رفتوں کے ساتھ ہی لیبر پارٹی کے اندر وہ دباؤ بھی بڑھ رہا ہے، جس میں ارکانِ پارلیمنٹ کی ایک بڑی تعداد کیئر اسٹارمر کے استعفے کے لیے واضح ٹائم لائن طے کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان ارکان کی تعداد تقریباً 100 تک پہنچ گئی ہے، جو پارٹی کے 403 رکنی پارلیمانی گروپ کا قریباً ایک چوتھائی حصہ بنتا ہے۔
یہ مطالبات اس وقت مزید شدت اختیار کر گئے، جب مئی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
اس کے بعد یہ دباؤ دوبارہ اس وقت بڑھا جب اینڈی برنہم نے میکرفیلڈ کے ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کی، جسے کئی مبصرین نے موجودہ قیادت کی مقبولیت میں کمی کی علامت قرار دیا۔
مزید یہ بھی رپورٹ ہوا ہے کہ کچھ وزراء نے جمعے کے روز ہونے والی ملاقاتوں میں اسٹارمر کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے عہدے سے علیحدگی کے لیے ایک واضح ٹائم فریم طے کرنے پر غور کریں۔
استعفیٰ کے کھلے مطالبات
دباؤ میں مزید اضافہ اس وقت ہوا ،جب برطانیہ کے سابق وزیر داخلہ ایلن جانسن نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ کیئر اسٹارمر کے لیے ان کا پیغام یہ ہوگا: ''بس ہو چکا، کیئر۔'''اس کے باوجود اسٹارمر نے گزشتہ کئی ماہ کے دوران بارہا واضح کیا ہے کہ وہ نہ تو اپنے عہدے سے مستعفی ہوں گے اور نہ ہی لیبر پارٹی کی قیادت چھوڑیں گے، اور وہ اندرونی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
ابھی تک وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے ان رپورٹس پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم آنے والے چند گھنٹے برطانوی حکومت اور لیبر پارٹی کی قیادت کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
اگر اسٹارمر مستعفی ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں ،تو برطانیہ ایک نئے سیاسی مرحلے میں داخل ہو جائے گا، جہاں حکمران جماعت کی قیادت کے لیے اندرونی مقابلہ شدت اختیار کر سکتا ہے، جبکہ حکومت کو پہلے ہی معاشی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔