اسرائیل اور امریکا کے درمیان ایران سے متعلق مفاہمتی یادداشت اور لبنان میں جاری جنگ پر بڑھتے ہوئے تناؤ کے دوران، اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل نے تہران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو سخت ضرب لگائی ہے۔
تاہم انہوں نے آج منگل کے روز غوش عتصیون میں ریزرو جنگی افسروں کے ایک تربیتی کورس کے طلبہ سے ملاقات کے دوران زور دیا کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔
نیتن یاہو نے اسرائیل کے لیے امریکہ کی جانب سے فراہم کی گئی حمایت کو سراہا، لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو انحصار سے آزاد ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق: ہمیں اپنی فوجی ضروریات خود پیدا کرنی ہوں گی۔
انہوں نے مزید کہا: میں اپنے امریکی دوستوں کی جانب سے ملنے والی حمایت کی بہت قدر کرتا ہوں، لیکن ہمیں انحصار سے نکل کر اپنا خود مختار اسلحہ نظام تیار کرنا ہوگا۔
اعتماد میں کمی کا بحران
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز پیر کی شام اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وہ اسرائیل کی جنوبی لبنان سے افواج کے انخلا سے متعلق ہچکچاہٹ کے مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا: "میں مسائل حل کرنے میں ماہر ہوں، اور انہیں بہت تیزی سے حل کرتا ہوں، بشمول بیبی (بنیامین نیتن یاہو) کے ساتھ معاملات بھی۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز بار بار اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ اسرائیلی فوج اس نام نہاد "سیکیورٹی زون" سے پیچھے نہیں ہٹے گی جو جنوبی لبنان میں قائم کیا گیا ہے، حالانکہ 18 جون کو طے پانے والے امریکی،ایرانی مفاہمتی معاہدے میں اس انخلا کا ذکر شامل تھا۔
یہ صورتحال واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اعتماد کے بحران اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دیکھی جا رہی ہے، جہاں امریکی انتظامیہ کے بعض اعلیٰ حکام کی جانب سے اسرائیلی حکومت پر حالیہ دنوں میں کھلی تنقید بھی سامنے آئی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کی جھلک ٹرمپ کی حالیہ تنقید میں بھی نظر آئی، جہاں انہوں نے نیتن یاہو کو "پاگل پن کی حد تک جنگ پسند" قرار دیا۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے گزشتہ ہفتے نیتن یاہو حکومت کے بعض وزراء کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یاد دلایا کہ اسرائیل جو ہتھیار استعمال کر رہا ہے، ان کی بڑی تعداد امریکہ کی فراہم کردہ ہے۔
یاد رہے کہ نیتن یاہو اور متعدد اسرائیلی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ ٹرمپ اور ایران کے درمیان ہونے والا مفاہمتی معاہدہ ایران کو تقویت دے سکتا ہے، جسے وہ اپنا سخت دشمن سمجھتے ہیں اور یہ معاہدہ ان کے مطابق لبنان میں حزب اللہ سے آنے والے خطرات کے خلاف اسرائیل کی ردعمل کی صلاحیت کو بھی محدود کرتا ہے۔