مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی سنٹرل کمانڈ نے منگل کے روز شام اور لبنان کے ساتھ سکیورٹی امور کے حوالے سے ایک مکالمے کا آغاز کیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے شام اور لبنان بھی اس سکیورٹی ڈائیلاگ کے لیے سیکیورٹی کانفرنس میں شریک ہوئے ہیں۔ امریکی قیادت میں اس کانفرنس کو ڈیفنس کانفرنس کا نام دیا گیا ہے۔
سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق اس ڈیفنس کانفرنس میں بحرین، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، اومان اور یمن کے اعلیٰ فوجی حکام شریک ہوئے ہیں۔ کانفرنس کا مقصد یہ جائزہ لینا ہے کہ علاقے میں سکیورٹی سے متعلق امور کو کس طرح باہمی اشتراک کے ساتھ بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
سینٹ کام کی طرف سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر کی گئی پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ کانفرنس کے شرکاء نے آبنائے ہرمز میں ٹریفک کے آزادانہ بہاؤ کو ممکن بنانے کے لیے اپنی مشترکہ ذمہ داریوں کی انجام دہی کی کمٹمنٹس کو پورا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
جبکہ امریکی سینٹ کام چیف ایڈمرل بریڈ کوپر نے اس موقع پر کہا ہم خطے میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہیں گے۔ شرکائے کانفرنس نے علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے مشترکہ ذمہ داریوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
کانفرنس کے حوالے سے سینٹ کام کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے امریکہ اور اس کے مشرق وسطیٰ میں موجود شراکت دار دنیا کا بہترین اور جدید ترین فضائیہ، میزائل اور فضائی دفاعی نظام رکھتے ہیں۔ یہ دفاعی چھتری پورے مشرق وسطیٰ کے لیے ہے۔
خیال رہے امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے لیے نیا 'ایئر ڈیفنس کوآرڈینیشن سیل' قائم کیا ہے۔ کمبائنڈ ڈیفنس آپریشنز سیل کا قیام ماہ جنوری میں عمل میں لایا گیا تھا۔ اس سیل کے ذمہ یہ کام بھی ہے کہ یہ علاقے میں اپنے شراکت داروں کو انٹیلی جنس اطلاعات اور ممکنہ خطرات کے بارے میں آگاہ کرتا رہے گا۔ یہ مشترکہ سیل قطر میں امریکی فوجی اڈے میں قائم ہے۔