نیٹو میں اپنی شراکت کے حوالے سے کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتے : جرمن چانسلر
جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے زور دیا ہے کہ ان کا ملک نیٹو کے اندر اپنی دفاعی شراکت کے حوالے سے کسی بھی فریق کے سامنے کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتا۔ یہ بیان ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جرمنی کی کم شراکت سے متعلق تنقید کے جواب میں سامنے آیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران یاد دلائیں گے کہ جرمنی اور یورپ کی شراکت نیٹو میں سب سے زیادہ ہے۔
آج جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فریڈرش میرس نے ٹرمپ کے اس بیان کے جواب میں کہ جرمنی کی سابقہ کوششیں "مضحکہ خیز" تھیں، کہا کہ "جرمنی کو اپنے دفاعی اخراجات کے ریکارڈ پر فخر کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔"
مزید برآں انہوں نے تصدیق کی کہ ان کا ملک "چار سال کے اندر اپنے دفاعی بجٹ کو دو گنا کر دے گا۔" انہوں نے مزید کہا "یہ ہماری دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے اب تک کی سب سے بڑی کوشش ہے، اور اس تناظر میں، ہمارے پاس پیچھے ہٹنے یا کسی بھی فریق کے سامنے شرمندگی محسوس کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔"
واضح رہے کہ امریکی صدر نے گذشتہ دو دنوں کے دوران نیٹو اور اس کے رکن ممالک کی جانب سے دفاعی اخراجات میں شراکت پر اپنی تنقید کو دہرایا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکہ سب سے زیادہ خرچ کرنے والا ملک ہے جبکہ جرمنی سب سے کم خرچ کرنے والوں میں شامل ہے۔
اپنی دوسری صدارتی مدت سنبھالنے کے بعد سے، ریپبلکن صدر نے نیٹو پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور اس سے دفاعی ضروریات پر اخراجات کا حجم بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے ایک سے زائد بار نیٹو سے نکلنے کی دھمکی دی ہے اور کچھ یورپی ممالک میں قائم اڈوں پر امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے گذشتہ مئی میں جرمنی سے تقریباً 5000 امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کے منصوبے کا با ضابطہ اعلان کیا تھا۔
امریکی انتظامیہ نے جرمنی میں بٹالین تعینات کرنے کے سابقہ منصوبے منسوخ کر دیے ہیں، ساتھ ہی وہاں 2027 میں ٹوماہاک کروز میزائلوں کی ممکنہ تنصیب کو بھی منسوخ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اس بات کا بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ نیٹو کے کسی رکن ملک کی درخواست پر اسے فوجی مدد فراہم نہیں کریں گے۔
تاہم، ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ چھڑنے اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ان کی تنقید میں شدت آئی ہے۔ ٹرمپ نے نیٹو ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اہم اور تزویراتی آبی گزرگاہ کو کھولنے میں اپنا حصہ ڈالیں، لیکن زیادہ تر یورپی ممالک نے ایسا کرنے سے گریز کیا، جس کی وجہ سے نیٹو اور ان ممالک کے خلاف امریکی صدر کے غصے میں مزید اضافہ ہوا۔