ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے بدھ کے روز کہا ہے کہ نیٹو اتحادیوں کو اپنے درمیان دفاعی صنعت کی پابندیاں ختم کر دینی چاہئیں۔ انہوں نے
بعض ایسے صنعتی اور معاشی اقدامات میں انقرہ کی شمولیت کی وکالت کی جو صرف یورپ کے لیے مخصوص ہیں۔
ایردوآن نے انقرہ میں نیٹو رہنماؤں کے سربراہی اجلاس کے افتتاح سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "دفاعی تعاون پر اتحادیوں کے درمیان پابندیاں ہٹا دی جائیں خاص طور پر دفاعی صنعت میں۔"
نیز کہا، "ایسے وقت میں جبکہ عقل پر مبنی تعاون کا ماڈل ممکن ہے تو (یورپی) یونین کے غیر رکن اتحادیوں کو خارج کر دینا یورپ میں مصنوعی تقسیم کا باعث بنے گا۔"
منگل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایردوآن کے برابر بیٹھے ہوئے کہا تھا کہ وہ ترکیہ پر سے پابندیاں اٹھائیں گے اور اسے ایف-35 طیاروں کی ممکنہ فروخت کا فیصلہ کریں گے۔ ان دونوں فیصلوں کے خلاف کانگریس کی جانب سے مزاحمت کا امکان ہے۔
ترکیہ کے پاس نیٹو کی دوسری بڑی فوج ہے اور وہ ہتھیاروں کے ایک بڑے ڈویلپر اور برآمد کنندہ کے طور پر ابھرا ہے۔ اگرچہ انقرہ نے بارہا کہا ہے کہ وہ سیف فنڈنگ سکیم جیسے یورپی سکیورٹی اقدامات میں شمولیت چاہتا ہے لیکن اب تک اسے سیاسی اور پالیسی اختلافات کی وجہ سے فاصلے پر رکھا گیا ہے۔
ایردوآن نے کہا کہ ترکیہ 2030 تک نیٹو کے پانچ فیصد دفاعی اخراجات کا ہدف حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہے اور یہ کہ اس نے نیٹو کے فضائی اور میزائل دفاع کو بہتر کرنے کے لیے اپنے "سٹیل ڈوم" فضائی دفاعی منصوبے کے لیے 24 بلین ڈالر کا اضافی بجٹ مختص کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا، اتحادیوں کو اتحاد میں رکاوٹ پیدا کیے بغیر بلاک کے دفاع کے لیے مزید ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
-
میں نے سپین سے امریکی تجارت منقطع کرنے کا حکم دیا ہے: ٹرمپ کا نیٹو سربراہی اجلاس میں بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز میڈرڈ کو اتحاد میں شامل ایک "خوفناک شراکت دار" ...
بين الاقوامى -
نیٹو کی ایران پر امریکی حملوں کی حمایت، آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ
نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اتحادی ممالک انقرہ میں ...
مشرق وسطی