اسرائیلی میڈیا نے بدھ کے روز خبر دی ہے کہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے اپنا طے شدہ دورۂ اسرائیل منسوخ کر دیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ تاہم واشنگٹن یا تل ابیب کی جانب سے اس فیصلے کی وجوہات کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
ہیگستھ نے نیٹو کے انقرہ میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد پہلی بار اسرائیل کا دورہ کرنا تھا۔ اس دوران ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز سے ملاقاتیں بھی متوقع تھیں۔
سی این این نے اس سے قبل باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ اس دورے کا مقصد خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنا اور امریکا و ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے مستقبل، خصوصاً ترکیہ کو ایف-35 لڑاکا طیاروں کے پروگرام میں دوبارہ شامل کیے جانے کے امکان کے حوالے سے اسرائیل کو اعتماد میں لینا تھا۔
ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کا دورۂ اسرائیل ایسے وقت میں منسوخ کیا گیا ہے، جب چند گھنٹے قبل ہی امریکا نے ایران کے اندر اہداف پر نئی فوجی کارروائیوں کا اعلان کیا تھا۔ اس کے جواب میں تہران نے خلیج میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد حملے کیے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے خاتمے اور اس پر دباؤ مزید بڑھانے کا اعلان کیا۔
یہ فیصلہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور واشنگٹن و تہران کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات کے تبادلے کے دوران سامنے آیا ہے، جس سے خطے میں تنازع مزید پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
تاحال امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے دورہ منسوخ کیے جانے یا اس کے لیے نئی تاریخ مقرر کرنے کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ اسرائیلی حکومت نے بھی اس معاملے پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔