بھارت نے بدھ کے روز اس امر پر تشویش ظاہر کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان پھر سے حملوں کا تبادلہ شروع ہو گیا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ نے قرار دیا ہے کہ ان حملوں سے علاقے میں امن کو نقصان پہنچے گا۔ جس کے نتیجے میں علاقائی سلامتی و استحکام کو نقصان پہنچے گا۔ جیسا کہ آبنائے ہرمز میں حالیہ حملوں سے تجارتی آمد و رفت نشانہ بنی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کو اس امر پر گہری تشویش ہے کہ مغربی ایشیا میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اس لیے تمام فریقوں کو چاہیے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں ، کشیدگی کو کم کریں تاکہ سویلینز کے تحفظ کے ساتھ ساتھ تجارتی جہازوں کی بلا رکاوٹ آمد و رفت جاری رہ سکے اور توانائی سے متعلق ترسیل جاری رہے۔
بھارت کے اس بیان میں مکالمے اور سفارت کاری پر بھی زور دیا گیا ہے۔ تاکہ تنازعے کا پر امن اور پائیدار حل نکل سکے۔ یاد رہے بھارت اسی آبنائے ہرمز کے راستے سے مغربی ایشیائی ملکوں سے بھاری مقدار میں خام تیل منگواتا ہے۔ ماہ فروری میں اس کے اہم اتحادی اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملے کے بعد بھارت کو بھی توانائی کے مسائل بھگتنا پڑے تھے۔