برطانوی حکومت نے پیر کے روز ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) اور ایران سے منسلک ایک اور گروپ کو برطانیہ کی سڑکوں پر یہود دشمن حملوں کے بعد نشانہ بنایا۔ اس کے لیے ریاست کے تعاون یافتہ خطرات سے نمٹنے کے لیے پابندی نما اختیارات کا استعمال کیا گیا۔
یہ اختیار مؤثر طریقے سے ان گروہوں کی حمایت کو غیر قانونی قرار دے گا اور پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ان سے منسلک کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے نئے اختیارات دے گا۔
وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے ایک بیان میں کہا، "ان نئے اختیارات سے برطانیہ میں وحشیانہ عمل کرنے والے کسی بھی فرد کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور اسے حوالات میں بند کرنا آسان ہو جائے گا۔"
آئی آر جی سی پہلے ہی برطانوی پابندیوں کے تابع ہے۔
برطانیہ نے کہا کہ ایران سے منسلک دوسرے گروپ اسلامی تحریکِ اصحاب الیمین نے سات حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جو یہودی اور اسرائیلی برادریوں اور فارسی زبان کے میڈیا پر کیے گیے بشمول 23 مارچ کو گولڈرز گرین میں چار ہاتزولا ایمبولینسوں پر یہود دشمن حملہ۔
برطانیہ نے روس کی جی آر یو انٹیلی جنس ایجنسی کو بھی نئے اختیارات کے تحت کالعدم نامزد کیا ہے۔
نافذ ہونے سے پہلے ان پابندیوں کی پارلیمنٹ سے منظوری ضروری ہے۔
-
صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے... یمنی وزیر دفاع نے ایران اور حوثیوں کو واضح کر دیا
یمن کے وزیر دفاع لیفٹننٹ جنرل طاہر العقیلی نے یمنی مسلح افواج کی جانب سے ایک ٹیلی ...
مشرق وسطی -
مجتبیٰ کی ہلاکت کا 90 فیصد امکان، ایران کا گھیراؤ دوبارہ شروع ہوگا:ڈونلڈ ٹرمپ
تہران کے ساتھ جاری تصادم میں ایک نئے اور تند و تیز موڑ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ...
بين الاقوامى -
ایرانی طیارہ اترنے سے روکنے کے لیے یمنی افواج کی صنعاء ایئرپورٹ کے رن وے پر بم باری
ایئرپورٹ کے قریب دھماکے ہوئے ہیں جب کہ وزارت دفاع نے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے اور ...
مشرق وسطی