مجتبیٰ کی ہلاکت کا 90 فیصد امکان، ایران کا گھیراؤ دوبارہ شروع ہوگا:ڈونلڈ ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

تہران کے ساتھ جاری تصادم میں ایک نئے اور تند و تیز موڑ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کا محاصرہ دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے امریکہ کو "آبنائے ہرمز کا محافظ" بنانے کا منصوبہ ظاہر کیا ہے جبکہ ایک ہولناک انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے جانشین مجتبیٰ خامنہ ای "90 فیصد تک ہلاک ہو چکے ہیں"۔ ٹرمپ نے فاکس نیوز کے مطابق دو ٹوک انداز میں کہا کہ اب ایران کے پاس اپنی عسکری قوتوں کو دوبارہ تعمیر کرنے کا کوئی موقع باقی نہیں بچا۔

ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر جذباتی اور جارحانہ لہجے میں لکھا کہ "ہم ایران پر محاصرہ کو دوبارہ نافذ کر رہے ہیں، اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ ایران کے جہاز یا اس کے آلہ کار اندر نہ آ سکیں اور نہ باہر جا سکیں، البتہ دیگر تمام ممالک آبنائے ہرمز تک منصفانہ اور آزادانہ رسائی کے حقدار رہیں گے"۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ امریکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تمام تجارتی کھیپوں پر 20 فیصد ٹیکس وصول کرے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اقدامات فوری طور پر نافذ ہوں گے اور آبنائے ہرمز ایران کی موجودگی یا غیر موجودگی میں بدستور کھلا رہے گا۔

ٹرمپ نے پیر کے روز ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر کے اس کا انتظام سنبھال سکتا ہے کیونکہ ایرانی مذاکرات کاروں نے سابقہ معاہدوں کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ لہجے میں کہا کہ "ہمارے درمیان ایک معاہدہ تھا مگر انہوں نے اسے توڑ دیا، وہ بہت برے لوگ ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ ہم آبنائے کا کنٹرول سنبھال لیں گے، شاید ہم اسے "آبنائے کے محافظ فرشتے" کی حیثیت سے چلائیں اور ہمیں دنیا کی اس اہم ترین آبی گزرگاہ کے تحفظ کے معاوضے میں خطیر رقم ملنی چاہیے۔

تہران کی مزاحمت: امریکہ کو مداخلت کی اجازت نہیں

وائٹ ہاؤس کے مکین کے ان بیانات کے بعد ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں بننے دے گا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کا عسکری موجودگی کا دعویٰ خطے میں عدم استحکام برقرار رکھنے کی خواہش کا ثبوت ہے۔

ادھر پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ تہران واشنگٹن کو آبنائے ہرمز کے انتظامی امور میں مداخلت کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ "خاتم الانبیاء" ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے ایک ویڈیو پیغام میں دھمکی دی کہ ایران کسی بھی صورت میں امریکہ کو اس تزویراتی گزرگاہ میں مداخلت کرنے نہیں دے گا اور ایران امریکی جہازوں کی کسی بھی غیر مجاز کوشش کا بھرپور مقابلہ کرے گا۔

مشرقِ وسطیٰ پھر بارود کے ڈھیر پر

امریکہ نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب ایران پر شدید فضائی حملے کیے جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں موجود اہداف کو نشانہ بنایا۔ یہ آٹھ اپریل کو طے پانے والی جنگ بندی کے بعد دونوں حریفوں کے درمیان بدترین کشیدگی ہے۔ آبنائے ہرمز اب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری اس سفاکیت کا محور بن چکا ہے جس نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

واضح رہے کہ 28 فروری سنہ 2026ء کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے سے مشرقِ وسطیٰ میں جو جنگ شروع ہوئی تھی، اس کے بعد 17 جون کو قطر اور پاکستان کی ثالثی میں ایک مفاہمت طے پائی تھی، جس میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران پر امریکی پابندیاں ہٹانے کے وعدے کیے گئے تھے۔ تاہم، ایران کے ترجمان نے پیر کے روز خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے اپنے وعدے پورے نہ کیے تو تہران اس مفاہمت کا پابند نہیں رہے گا۔ اب خطے کی فضاؤں میں ایک بار پھر جنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور امن کی تمام تر کوششیں دم توڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں