فرانس کے قانون سازوں نے ایک ایسے قانون کی منظوری دے دی ہے جسے بظاہر 'معاون موت' کا نام دیا گیا ہے لیکن حقیقتاً یہ فرانسیسی شہریوں کو خودکشی کی اجازت دینے کا قانون ہے۔ اس قانون کے تحت ان شہریوں کو بسہولت مرنے کی اجازت دی جائے گی جن کی بیماری ایسی سٹیج پر پہنچ گئی ہو کہ وہ شہری اور اس کے ڈاکٹر اسے لاعلاج سمجھتے ہیں اور مریض اس طرح کی زندگی مزید نہ چاہتا ہو۔
بدھ کے روز منظور کیے گئے اس قانون کی منظوری دی گئی ہے۔ اس قانون سے فائدہ اٹھانا صرف ان مریضوں کا حق ہوگا جو فرانس کے شہری ہوں گے یا پھر فرانس میں قانونی جواز کے ساتھ رہائش رکھتے ہوں گے۔ اس کامیاب قانون سازی سے قبل فرانس میں اس بارے میں اس 'خود کشی' کے اخلاقی پہلوؤں اور قانونی حقوق کے سلسلے میں ایک لمبی بحث چلتی رہی۔ تاہم فرانس کے قانون ساز ادارے نے اس بل کی منظوری دے کر یہ بحث ختم کر دی ہے۔
منظور کیے گئے قاانون کے مطابق اس قانون سے فائدہ اٹھانے کے لیے یہ بھی لازم ہو گا کہ وہ اپنی موت کا اہتمام کرنے کے لیے یہ مہلک مادہ خود وصول کرے اور اپنے آپ کو انجیکٹ کرلے یا پھر اس کے علاج پر مامور ڈاکٹر یا نرس اس مریض کی اجازت سے ایسا کر سکیں گے۔
واضح رہے یورپی ملکوں میں بظاہر سکون ہی سکون کہانی ہے اور زندگی پر آسائش تصور کی جاتی ہے۔ ان ممالک میں خود کشی کے واقعات کافی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ فرانس میں ہر سال 9000 سے 12000 کے درمیان شہری خود کشی کرتے ہیں ۔ اب فرانس نے ایک قانون منظور کر کے زندگی سے تنگ آئے افراد کے لیے یہ کام قانونی بنا دیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے کسی شہری کا بالغ ہونا ضروری ہے۔ وہ مہلک بیماری کا شکار ہو ، اس کی بیماری آخری درجے میں ہو۔ اس کی جسمانی اور نفسیاتی حالت اسے مرنا آسان بتاتی ہو بجائے اس کے وہ زندہ رہے۔ وہ اپنی اس خواہش کا اظہار کر کے ممکن بنا سکے گا۔