ایران کی جانب سے داغے گئے تین میزائلوں کو فضا میں روک لیا : اردنی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اردنی فوج نے اعلان کیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے تین ایرانی میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا ہے جو اس کی سرزمین کو نشانہ بنا رہے تھے۔ ساتھ اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ اس کارروائی میں کوئی جانی یا مادی نقصان نہیں ہوا۔

اردنی مسلح افواج کی جنرل کمانڈ کی جانب سے آج جمعے کے روز جاری بیان کے مطابق یہ کارروائی آج صبح منظور شدہ آپریشنل طریقہ کار اور دفاعی تدابیر کے مطابق عمل میں لائی گئی، جس کا مقصد مملکت کی خود مختاری کے تحفظ، فضائی حدود کو محفوظ بنانا اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا۔

عسکری ذرائع نے وضاحت کی کہ روئل انجینئرنگ کور کی ٹیموں نے ان مقامات پر اپنا کام شروع کر دیا ہے جہاں میزائلوں کے ٹکڑے گرے تھے۔ انہوں نے رائج تکنیکی اور حفاظتی طریقہ کار کے مطابق انہیں سنبھال کر محفوظ کر لیا ہے۔

اردنی فوج نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اعلیٰ ترین تیاری اور چوکنا رہنے کے ساتھ اردن کی فضائی حدود کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔ فوج نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ معلومات صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کریں اور افواہیں پھیلانے سے گریز کریں۔

اردنی اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کی جانب سے خلیج میں امریکی تنصیبات اور اڈوں کو نشانہ بنانے والے نئے حملوں کے اعلان کے بعد خطہ وسیع کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔ کل ایران کے اندر فوجی اہداف پر امریکی حملوں کی مسلسل چھٹی رات تھی۔

اسی تناظر میں کویت نے دشمن کے میزائلوں اور ڈرونز کو مار گرانے کا اعلان کیا۔ بحرین نے اپنی فضائی حدود میں ایرانی فضائی اہداف کو تباہ کرنے کی تصدیق کی۔ قطر نے اعلان کیا کہ اس کی مسلح افواج نے ایرانی میزائل حملے کا مقابلہ کیا ہے۔ قطری وزارت داخلہ نے بتایا کہ میزائلوں کو روکنے کی کارروائیوں کے نتیجے میں گرنے والے ٹکڑوں کی وجہ سے ایک بچہ زخمی ہوا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق حالیہ حملوں میں ایرانی فوج کے درجنوں مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ساحلی نگرانی کی تنصیبات، فضائی دفاعی نظام، لوجسٹک انفراسٹرکچر اور بندر عباس اور جزیرہ قشم کے قریب بحری صلاحیتیں شامل ہیں۔

اس کے برعکس ایرانی میڈیا نے اعلان کیا کہ پاسدارانِ انقلاب نے بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ نیز یہ بھی کہا کہ اس نے مشرقی شام میں التنف بیس پر واقع ایک امریکی کمانڈ سینٹر پر حملہ کیا ہے، یہ ایسے دعوے ہیں جن کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

یہ پیش رفت آبنائے ہرمز کے ارد گرد جاری کشیدگی کے سائے میں سامنے آئی ہے، جہاں جہاز رانی میں بڑھتا ہوا اضطراب دیکھا جا رہا ہے اور محاذ آرائی کے دائرہ کار کے پھیلنے اور اس کے خطے کی سکیورٹی اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثرات کے بارے میں انتباہات دیے جا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں