گراہم کی آخری رسومات کے باعث نیتن یاہو کا دورۂ واشنگٹن مؤخر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ آئندہ ہفتے ہونے والا ان کا امریکہ کا دورہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی آخری رسومات جولائی کے اختتام تک مؤخر ہونے کے بعد کیا گیا، جس کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متوقع ملاقات بھی فی الحال ملتوی ہو گئی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نیتن یاہو کے دفتر نے بتایا کہ دورہ ملتوی کرنے کا فیصلہ گراہم کی تدفین کی تقریب کی نئی تاریخ مقرر ہونے کے بعد کیا گیا۔ لنڈسے گراہم کو امریکی کانگریس میں اسرائیل کے نمایاں حامیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو ہفتہ کی شام واشنگٹن روانہ ہونے والے تھے، جہاں وہ گراہم کی آخری رسومات میں شرکت کے علاوہ وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات بھی کرنے والے تھے۔

تاہم جیروسلم پوسٹ کے مطابق جنازے کی تاریخ تبدیل ہونے کے بعد دورے کا پروگرام بھی مؤخر کر دیا گیا۔اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر نے دورۂ واشنگٹن کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا، جبکہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی نیتن یاہو اور ٹرمپ کی ملاقات کے لیے کوئی متبادل شیڈول جاری نہیں کیا گیا۔

گراہم، اسرائیل کے نمایاں حامی

ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم گزشتہ ہفتے 71 برس کی عمر میں اچانک طبیعت بگڑنے کے باعث انتقال کر گئے تھے۔ ان کی وفات پر امریکہ سمیت مختلف ممالک میں افسوس کا اظہار کیا گیا۔

لنڈسے گراہم کو امریکی سینیٹ میں اسرائیل کے مضبوط ترین حامیوں میں شمار کیا جاتا تھا، جبکہ برسوں کے دوران ان کے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ قریبی تعلقات بھی رہے۔

نیتن یاہو نے سینیٹر گراہم کے انتقال پر تعزیت کرتے ہوئے انہیں ''اسرائیل کے عظیم ترین دوستوں میں سے ایک'' قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ دونوں نے ایسی شخصیت کو کھو دیا ہے جس نے دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور امریکی اداروں میں اسرائیل کے دفاع کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔

دورۂ واشنگٹن کا التوا ایسے وقت میں ہوا ہے، جب خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال برقرار ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی، غزہ میں جنگ اور لبنان کی سرحد پر بڑھتے ہوئے تناؤ جیسے اہم معاملات متوقع طور پر نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات میں زیرِ بحث آنے والے تھے۔

اگرچہ دورہ مؤخر کر دیا گیا ہے، تاہم نہ واشنگٹن اور نہ ہی تل ابیب نے اس فیصلے کے پیچھے کسی سیاسی اختلاف کی نشاندہی کی ہے۔ دونوں حکومتوں نے اس کا سبب صرف لنڈسے گراہم کی آخری رسومات کی تاریخ میں تبدیلی کو قرار دیا ہے، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ سرکاری تقریبات کی نئی تاریخ طے ہونے کے بعد دورۂ واشنگٹن بھی دوبارہ ترتیب دیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں